1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تجارتی معاہدہ: امریکا نے یورپی یونین پر دباؤ ڈالا تھا، گرین پیس تنظیم

جرمن ذرائع ابلاغ کو ایسی دستاویزات حاصل ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک متنازعہ تجارتی معاہدے کے اطلاق کے لیے ماحولیاتی اور صارفی تحفظات کو کم کرنے کے لیے امریکا نے یورپی یونین پر دباؤ ڈالا تھا۔

ماحولیاتی تحفظ سے متعلق تنظیم ’گرین پیس‘ نے جرمن اخبار ’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ اور چند نشریاتی اداروں کو دو سو چالیس صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات دی ہیں، جن کو یہ ادارے آج پیر کے روز شایع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے یورپی یونین کو دھمکی دی تھی کہ اگر یورپی یونین اسے مزید زراعتی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو وہ یورپی کاروں کی درآمد روک دے گا۔

گرین پیس تنظیم کے مطابق اس طرح کا معاہدہ صارفین کے تحفظ کے لیے ان یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا جن کے ذریعے ’جینیٹکلی موڈیفائیڈ آرگینیزمز‘ اور ’ہورمون ٹریٹڈ‘ گوشت کی فروخت کو روکا جا سکتا ہے۔ صارفین کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اس طرح کے گوشت کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیتی ہیں۔

اس بارے میں گرین پیس سے وابستہ ماہر تجارت یوئرگین کنیرش کہتے ہیں، ’’پس دروازہ ہونے والے مذاکرات کی وہ تفصیلات جو عوام پر عیاں ہوئی ہیں وہ ڈراؤنے خواب کی طرح ہیں۔ اب ہم جان گئے ہیں کہ یہ معاملات حقیقت کا روپ دھارنے جا رہے ہیں۔‘‘

اس ماحولیاتی تنظیم کا یہ بھی الزام ہے کہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان ’ٹرانس ایٹلانٹیک‘ تجارتی معاہدے کے پیچھے بڑے کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔

اس معاہدے پر فریقین کے درمیان بات چیت کی ابتدا سے ہی حقوق انسانی کے کارکن یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ تاہم یورپی یونین اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بہترین معاہدے کے حصول کے لیے مذاکرات کی تفصیلات کو مخفی رکھنا ضروری ہے۔

امریکی اور یورپی مذاکرات کاروں نے جمعے کے روز اس حوالے سے نیویارک میں مزید بات چیت کی اور مذاکرت کے اختتام پر کہا کہ عوامی حلقوں کی جانب سے مخالفت، امریکا میں صدارتی انتخابات اور برطانیہ میں یورپی یونین سے متعلق ریفرینڈم کے باوجود وہ پرامید ہیں کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور یورپ میں اس معاہدے کو شدید عوامی مخالفت کا سامنا ہے۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ آٹھ سو ملین افراد کے لیے دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہوگا۔ تاہم اس معاہدے کو یورپی یونین میں شامل ممالک کی جانب سے توثیق کی ضرورت پڑے گی۔