1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تبصرہ: اسلام کے مقدس مقامات تمام مسلمانوں کے ہیں

ریاض اور تہران کی لفظی جنگ کہ کون درست مسلمان ہے اور کون نہیں، تمام مسلمانوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ مگر دونوں ممالک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ طے کریں کہ کون حج کرے گا اور کون نہیں. ڈی ڈبلیو کی کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ مقدس ترین مقامات ہیں۔ مگر ایسا قوی خیال ہے کہ سعودی حکمران جو سخت گیر وہابی اسلام کے پیروکار ہیں، یہ طے کرتے ہیں کہ کون ان مقامات کی زیارت کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ جنہیں یہاں جانے کی اجازت ملتی بھی ہے تو انہیں اسلام کی روایات کے بارے میں سعودی حکام کے لاگو کردہ قوانین پر عمدرآمد کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون کو اپنے شوہر، بھائی یا والد کی معیت کے بغیر حج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ضوابط اسلام کی روح ہی کے نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہیں۔

سعودی عرب کی طرف سے ایرانی شیعہ مسلمانوں کو رواں برس حج کرنے کی اجازت نہ دینے پر ریاض اور تہران کے درمیان حالیہ تنازعہ، اسلام کے مقامات مقدسہ کے رکھوالوں کی سخت گیریت کی تازہ مثال ہے۔ مگر یہ مسئلہ عقائد سے زیادہ سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی پر اختلافات سے متعلق ہے۔

سنی اور شیعہ مسلمان بنیادی اسلامی عقائد پر متفق ہیں اور اسلام کے ابتدائی دور سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں۔ سعودیوں کو شیعہ مسلمانوں سے اُس وقت کوئی مسئلہ نہیں تھا جب تہران پر امریکا نواز شاہ ایران کی حکومت تھی۔ مگر 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ یہ انقلاب نہ صرف خاندانی حکمرانی کے خیال بلکہ مشرق وُسطیٰ میں امریکا نواز حکومت کے لیے بھی خطرے کی ایک علامت تھا۔

کشور مُصطفیٰ، سربراہ شعبہ اردو

کشور مُصطفیٰ، سربراہ شعبہ اردو

ایران میں آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں آنے والا اسلامی انقلاب بھی نقائص سے عاری نہیں تھا۔ خمینی نے نہ صرف شدت پسند مذہبی رہنماؤں کے اقتدار کو مستحکم کیا بلکہ ایرانی عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی۔ جمہوریت اور آزادی کے حوالے سے ایران کو ابھی طویل فاصلہ طے کرنا ہے۔

سیاست کے لیے مذہب کا استعمال

سعودی عرب اور ایران دونوں ہی مذہب کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یمن اور شام کے تنازعات دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان مخاصمت اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کی تازہ مثال ہیں۔

ایرانی اور سعودی حکام کے درمیان اس معاملے پر لفظی جنگ کہ کون درست مسلمان ہے اور کون نہیں، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر صورتحال کو سنبھالا نہ گیا تو چیزیں قابو سے باہر بھی ہو سکتی ہیں۔ 1987ء میں سعودی سکیورٹی فورسز نے مکہ میں حج کے موقع پر شیعہ مظاہرین کی بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں ممالک کے درمیان تین برس تک سفارتی تعلقات معطل رہے تھے۔

ریاض اور تہران کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے سفارتی طریقے استعمال کریں۔ ساتھ ہی حج کے انتظامات کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے لیے مقدس مقامات ہیں، اس لیے ان کا انتظام ایک ایسی کونسل کو چلانا چاہیے جس میں تمام فرقوں کی نمائندگی موجود ہوں۔ تمام مسلمانوں کو خواہ وہ عورت ہوں یا مرد، امیر ہوں یا غریب، جوان ہوں یا عمر رسیدہ، حج کی ادائیگی کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ سعودیوں کو زیادہ لچک پذیر ہونا چاہیے۔