1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

تبدیلی کے لیے فعال سعودی خاتون کارکن

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی سعاد الشعری حقوق نسواں کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ اسلامی تعلیمات کی تشریحات کے تحت صنفی امتیاز کے خلاف فعال ہیں۔

’عرب اسپرنگ‘ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلی سے یہ توقع بھی لگائی جا رہی تھی کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے زیادہ مواقع ملیں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

عرب اسپرنگ خواتین کی خودمختاری میں ناکام رہی

تیونس کا عرب اسپرنگ، خزاں بنتا جا رہا ہے

سعودی عرب: خواتین کے اظہارِ رائے کی سزا جیل

پانچ برس قبل آنے والی ’عرب اسپرنگ‘ سے تبدیلی کی ایک نئی امید کی توقع لگائی گئی تھی۔ بالخصوص خواتین کی ترقی اور بہبود کے حوالے سے لگائے جانے والے اندازے مکمل طور پر درست ثابت نہ ہوئے لیکن پھر بھی کچھ خواتین اپنے شعبوں میں نمایاں ضرور ہوئیں۔

ایسی خواتین کو توقع ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید آزادی حاصل ہو سکے گی اور وہ اپنے اپنے ممالک کی ترقی میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکیں گی۔ یہ خواتین آج بھی اس مقصد کی خاطر اپنی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کی استعداد کاری ملکی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم خاتون کارکن سعاد الشعری سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں برابری ملنی چاہیے۔ اس مقصد کی خاطر وہ اسلامی تعلیمات کی تشریحات سے مدد لینے کے حق میں ہیں۔

الشعری نے جب ٹوئٹر پر اپنے پیغامات کی ایک سیریز میں لکھا تھا کہ سعودی مذہبی رہنما اگر داڑھی رکھتے ہیں تو وہ صرف اسی باعث مقدس نہیں ہو سکتے، تو انہیں معلوم نہ تھا کہ انہیں اس تبصرے پر تین ماہ قید کی سزا سنا دی جائے گی۔ تاہم انہیں آزادانہ طور پر اپنی رائے کے اظہار کے جرم میں تین ماہ تک جیل میں قید رہنا پڑا تھا۔

Souad al-Shammary (picture alliance/AP Photo)

دو مرتبہ طلاق یافتہ اور چھ بچوں کی ماں سعاد الشعری اسلامک لاء کی گریجویٹ ہیں

دو مرتبہ طلاق یافتہ اور چھ بچوں کی ماں سعاد الشعری اسلامک لاء کی گریجویٹ ہیں۔ وہ پہلے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کر چکی تھیں اور اب جیل کی سزا کے بعد بھی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کے حوالے سے ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔

سعاد خود کو ایک لبرل فیمینِسٹ قرار دیتی ہیں لیکن وہ اپنی دلیل کو اسلامی حوالہ جات سے مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے وہ اس وقت فعال ہوئی تھیں، جب ایک عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ ان کی سات سالہ بیٹی ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ طلاق کے بعد ان کی بیٹی ایک ایسے گھر میں نہیں رہ سکتی، جہاں ایک مرد بھی رہتا ہو۔ تب وہ دوسری شادی کر چکی تھیں۔ تاہم انہوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے ہوا کیونکہ خدا ایسا ہی چاہتا تھا۔

DW.COM