1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تباہ حال عمارات اور ٹرک بے گھر شامی شہريوں کے ٹھکانے

خانہ جنگی کے شکار ملک شام ميں گيارہ ملين سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہيں۔ متعدد شامی شہريوں نے گاڑيوں حتیٰ کہ تباہ حال عمارات تک کے ڈھانچوں ميں اپنا ٹھکانہ بنا ليا ہے اور اب ان کے شب و روز وہيں گزرتے ہيں۔

ابو زيد کا گھر شامی دارالحکومت دمشق کے مضافات ميں تھا۔ قريب دو برس قبل بمباری کے نتيجے ميں اس کا مکان تباہ ہو گيا تھا اور اس وقت سے ہی زيد کے شب و روز اس کے ٹوٹے پھوٹے، زنگ آلود پک اپ ٹرک ميں گزرتے ہيں۔ يہ دہائیوں پرانا ٹرک نہ صرف اس کے ليے روزگار کا واحد ذريعہ ہے بلکہ وہ اس ميں رہتا بھی ہے۔ ابو زيد ان تقريباً گيارہ ملين شامی باشندوں ميں شامل ہے، جو شام ميں مارچ سن 2011 سے جاری خانہ جنگی کے سبب بے گھر ہو چکے ہيں۔

دمشق کے مارجہ چوک پر باسٹھ سالہ زيد اپنے سوزوکی ٹرک سے سہارا ليے کھڑا ہو کر بتاتا ہے، ’’ميرا ٹرک ميرے جيون ساتھی کی مانند ہے۔‘‘ اس کے بقول وہ اس سے باتيں کرتا ہے اور رات کے وقت اس کی آغوش ميں ہی دو پل کا آرام کر ليتا ہے۔ اس نے بتايا، ’’ميرے پاس يہ ٹرک 1978ء سے ہے، ہم دونوں ساتھ بڑے ہوئے اور اب ساتھ ہی بوڑھے ہو رہے ہيں۔‘‘

ابو زيد سن 2012ء ميں دمشق کے جنوبی حصے سبيناح ميں اپنا مکان تباہ ہونے کے بعد دارالحکومت منتقل ہوا تھا۔ اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد اس کی اہليہ اور پھر ايک بم دھماکے ميں ايک بيٹا بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے باقی بچے بڑے ہو چکے ہيں اور دمشق کے نواحی علاقوں ميں چھوٹے جھوٹے مکانات کرائے پر لے کر ان ميں رہ رہے ہيں۔ زيد کہتا ہے کہ وہ اپنے گھر اس ليے نہيں جا سکتا کيونکہ وہ علاقہ ميدان جنگ بن چکا ہے۔ اس نے مزيد بتايا، ’’جب ميرا کام اچھا چل رہا ہوتا ہے اور آمدنی بہتر ہوتی ہے، تو ميں تين افراد کے ہمراہ ايک ہوٹل ميں کمرہ لے ليتا ہوں تاکہ ميں کچھ آرام کر سکوں اور اپنے بچوں سے ملنے جا سکوں۔‘‘ تاہم زيد اپنا زيادہ تر وقت اسی ٹرک ميں گزارتا ہے، جس ميں وہ دن کے وقت مختلف مقامات پر ريفریجريٹر يا فرج پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

شام ميں تقريباً 2.3 ملين مکانات تباہ ہو چکے ہيں

شام ميں تقريباً 2.3 ملين مکانات تباہ ہو چکے ہيں

اقتصادی تجزيہ نگار عمار يوسف کے مطابق قريب پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتيجے ميں شام ميں تقريباً 2.3 ملين مکانات تباہ ہو چکے ہيں، جس سبب سات ملين سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہيں۔ انہوں نے بتايا، ’’دمشق کے نواحی علاقے زيادہ تر تباہ ہو چکے ہيں، کچھ تو ايسے بھی ہيں جن کا نقش تک مٹ گيا ہے۔‘‘ يوسف شام کے بنيادی ڈھانچے کی تباہی پر ايک مطالعہ کر رہے ہيں۔

شامی اقتصادی تجزيہ نگار نے بتايا کہ سب سے زيادہ متاثر وسطی شہر حمص ہوا ہے، جہاں آٹھ ہزار سے زائد عمارات برباد ہو چکی ہيں۔ ان کے بقول شام ميں اب تک تباہ ہونے والی عمارات اور بنيادی ڈھانچے کی مرمت ميں ڈھائی سو بلين ڈالر کے اخراجات آ سکتے ہيں۔