1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تاوان کے لیے پولیس ہی نے اغوا کر لیا

ملائیشیا کی پولیس نے اپنے ہی تین ایسے اہلکاروں اور ایک سویلین باشندے کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے فلپائن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کاروباری شخصیت کو چند روز قبل تاوان کے لیے اغوا کر لیا تھا۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوآلالمپور سے منگل بارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ان چاروں ملزموں کی گرفتاری مشرقی ملائیشیا میں عمل میں آئی اور ان کے حراست میں لیے جانے کی صوبائی پولیس نے تصدیق کر دی ہے۔

پولیس کے جرائم کی تحقیقات کرنے والے شعبے کے سربراہ صلاح الدین عبدالرحمان نے بتایا کہ ان چاروں ملزمان کو پیر گیارہ جنوری کو رات گئے ملک کے مشرقی صوبے صباح کے دور دراز کے ضلع ’لحد داتُو‘ سے حراست میں لیا گیا۔

صلاح الدین عبدالرحمان نے بتایا کہ ان ملزمان نے سات جنوری کے روز ’سیلام‘ نامی گاؤں سے ایک ایسی 44 سالہ بزنس پیشہ خاتون کو اغوا کر لیا تھا، جو فلپائن کی شہری ہے۔ ’’ملزمان نے اغوا کے بعد اس خاتون کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہیں تاوان کے طور پر 50 ہزار رِنگِٹ (قریب 11 ہزار امریکی ڈالر) ادا نہ کیے گئے تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔

صباح کی اسٹیٹ پولیس کے مطابق ان ملزمان نے اغوا برائے تاوان کے اس واقعے کے محض چند ہی گھنٹے بعد یرغمالی خاتون کو اس وقت رہا کر دیا تھا، جب خاتون کے رشتے داروں کی طرف سے انہیں تاوان کی رقم ادا کر دی گئی تھی۔

صلاح الدین عبدالرحمان نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے تین پولیس اہلکاروں میں سے ایک کانسٹیبل ہے اور باقی دو اس کے سینیئر اہلکار جبکہ چوتھا ملزم ایک عام شہری ہے۔ چاروں گرفتار شدگان کے خلاف اغوا برائے تاوان کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملکی قوانین کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا کی صورت میں عدالت انہیں سزائے موت کا حکم بھی سنا سکتی ہے۔

DW.COM