1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

تامل ناڈُو: مانع حمل کے ایک مخصوص طریقے پر اٹھتی انگلیاں

بھارت کی جنوبی رياست تامل ناڈو کے سرکاری ہسپتالوں میں عورتوں کے لیے ’آئی یُو ڈی‘ کثرت سے تجویز کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر دیہات کی شادی شدہ خواتین کو کو طبی کارکنوں اور بڑی عمر کی رشتہ دار عورتوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔

راميا راجيشوری نے تقریباً انيس برس کی عمر میں اپنے پہلے اور اب تک کے واحد بچے کو جنم ديا۔ بھارت کی جنوبی رياست تامل ناڈو کے ايک سرکاری ہسپتال ميں بچے کے پيدائش کے بعد کسی خاطر خواہ مشاورت کے بغير ہی راجيشوری کے جسم ميں آئندہ حمل روکنے کے ليے 'آئی ڈی يو' يا 'انٹرا يوٹرين ڈيوائس' نصب کر دی گئی۔

راجیشوری کے بقول ہسپتال ميں موجود معالجوں نے اُس کی ساس سے بات کی اور يہ انہيں سمجھايا کہ اُس کے خاوند کی آمدنی کم ہونے کے علاوہ اُسے منشيات اور شراب نوشی کی عادت بھی ہے اور مزید ايک بچہ پيدا کرنا مناسب نہيں۔

راجيشوری کا شمار بھارت ميں اُن کئی ملين خواتين ميں ہوتا ہے، جن ميں طويل المدتی بنيادوں پر حمل روکنےکے ليے سرکاری طبی ورکرز بغیر اجازت کے ’آئی ڈی یُو‘ کا استعمال کيا جا چکا ہے۔ اِس عمل کے تحت کسی عورت کی بچہ دانی ميں تانبے کی ايک شے رکھ دی جاتی ہے، جو حمل کو تقریباً ناممکن بنا ديتی ہے۔ واضح رہے کہ يہ عمل عارضی ہوتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اِسے ہٹايا جا سکتا ہے۔

بھارتی وزارت صحت اور محکمہ برائے فيملی ويلفيئر نے صحت کے ليے مفيد قرار ديتے ہوئے پيدائش کے فوری بعد IUD نصب کرنے کے عمل کو قريب تين برس قبل متعارف کرايا۔ اِس سرکاری پاليسی کا اطلاق زيادہ تر ديہی علاقوں کی غريب خواتين کیا جانے لگا جو اکثر صرف بچے کے پيدائش ہی کے ليے ہسپتال جاتی ہیں۔

سن 2014 ميں کيے گئے ايک مطالعے کے مطابق تامل ناڈو ميں تقريبا61 فيصد خواتين مانع حمل کے مختلف طريقہ کار استعمال ميں لا چکی ہیں۔ سن 2004 اور 2005 ميں صرف تين فيصد عورتوں نے حمل سے اجتناب کرنے کے ليے IUD کا استعمال کیا اور اب سن 2014 اور 2015 ميں اِن عورتوں کا تناسب 48 فيصد تک پہنچ گيا۔

سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ منسلک ايک محقق نے 221 عورتوں کے تجربات پر مبنی اپنے ايک حاليہ مطالعے ميں بتايا کہ قريب 14 فيصد خواتين پر IUD رکھوانے کے ليے طبی کارکنان نے کسی حد تک دباؤ ڈالا۔ اس اسٹڈی کے نتائج کے مطابق کُل خواتين کے پانچويں حصے سے بھی کم خواتين کو مانع حمل کے ديگر طریقوں بارے ميں معلومات فراہم کی گئی تھی۔ ریسرچر کے مطابق کافی تعداد ميں عورتوں کو تو يہ معلوم تک نہ تھا کہ مانع حمل کے ليے اُن کے جسم ميں IUD کو رکھ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ يہ تحقيق تاحال شائع نہيں ہوئی ہے۔

Indien Frauen Massensterilisation 13.11.2014

ايک حاليہ مطالعے ميں بتايا کہ قريب 14 فيصد خواتين پر IUD رکھوانے کے ليے طبی کارکنان نے کسی حد تک دباؤ ڈالا

صورتحال کی وضاحت کے ليے جب وزارت صحت کے ايک اہلکار سے پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ غريب خواتين اور بالخصوص نچلی ذات کی عورتوں کو بچے پيدا کرنے اور خاندان کو آگے بڑھانے کے حوالے سے 'غير ذمہ دار' سمجھا جاتا ہے۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس اہلکار نے مزيد کہا کہ ايسی خواتين اپنے بچوں کو ايک اچھا معيار زندگی فراہم کرنے ميں بظاہر ناکام رہتی ہيں۔

صوبائی وزارت صحت نے اس حوالے سے کوئی سرکاری بيان جاری کرنے سے انکار کر ديا۔ بھارت ميں چند ماہرين کا ماننا ہے کہ ايسی پاليسياں عورتوں اور پسماندہ کميونٹيز کے خلاف امتيازی سلوک کی عکاسی کرتی ہيں۔