1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تامل ناڈو میں شدید بارشوں کے سبب کاروبار زندگی مکمل طور پر مفلوج

بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں گزشتہ ایک صدی میں ہونے والی اب تک کی شدید ترین بارشوں نے بڑی تباہی مچائی ہے۔

ہفتوں سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑے دھچکے کا باعث وہاں کی فیکٹریوں کے کاموں کا رُک جانا بن گیا ہے۔ تامل ناڈو کے ریاستی دارالحکومت چنئی کا ایئر پورٹ بھی مکمل طور پر مفلوج ہو چُکا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس صورتحال کا ذمےدار موسمیاتی تبدیلی کو ٹھہرا رہے ہیں۔ مودی ان دنوں پیرس میں جاری عالمی کلائمیٹ چینج سمٹ میں شریک ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر اعظم اپنے ملک کی موجودہ صورتحال کی مثال دیتے ہوئے موسمیاتی تبیدلی کے نتائج اور اسباب پر عالمی لیڈروں کی خاص توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مودی نے منطقہ حارہ کے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کی شدت سے لاحق خطرات اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جیسی قوم اس کا شدید شکار ہو رہی ہے۔

Indien Tamil Nadu Hochwasser in Chennai

سیلاب کے سبب لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور

چنئی آبادی کے اعتبار سے بھارت کا چوتھا بڑا شہر اور موٹر کار سازی اور آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کا مرکز ہے۔ سیلاب سے متاثرہ بڑی موٹر ساز کمپنیوں جیسے کے فورڈ، ڈائملر، ہُنڈائی اور نسان نے بُدھ کو اپنے اپنے کارکنوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں عوام کو خدمات فراہم کرنے والے ایک معروف امریکی آؤٹ سورسنگ فرم ’’کوگنیزنٹ‘‘ نے اپنے 11 مقامی دفاتر بند کر دیے ہیں۔

بھارتی ایئر لائینز نے چنئی کے لیے اپنی تمام تر پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جس کے سبب فضائی سفر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چنئی شہر کی سڑکیں نہر کا منظر پیش کررہی ہیں جبکہ ایئرپورٹ کا رن وے بھی پانی میں ڈوب گیا۔ حکام نے اسکول اور کالجز کو بند رکھنے اور دریا کے کنارے بسنے والے افراد کو نقل مکانی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ چمبرم بکم ڈیم سے 20 ہزار کیوبک فٹ فی سیکنڈ کے حساب سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ چنئی شہر میں ریسکیو آپریشن کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق اگلے تین سے چار روز تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

Indien Hochwasser in Chennai

چنائی کے اکثر علاقے زیر آب

نئی دہلی میں قاتم بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی NDMA کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے شہر کی مرکزی شاہراہوں اور ہوائی اڈے کو صاف کرنا اور دوبارہ سے قابل استعمال بنانے کا عمل اس وقت سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے تاہم کہا ہے کہ اب تک اس ناگہانی آفت کے نتیجے میں کوئی ہلاکت ریکارڈ نہیں ہوئی اور مالی نقصانات کے تخمینے کے بارے میں اُس وقت ہی کچھ کہا جا سکے گا جب سیلاب کسی حد تک تھم جائے گا۔

DW.COM