1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تامل باغی پھر سر اٹھارہے ہیں، کولمبو حکومت

سری لنکا میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شکست خوردہ تامل باغی اب بھی بیرون ملک سے کولمبو حکومت کے خلاف منفی نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

default

باغیوں کے دستوں میں شامل نوجوان

مرکزی کابینہ کے ایک سینئر وزیر دینیش گوناوردینا کا کہنا ہے کہ باغیوں کے پاس اب بھی ایسے بحری جہاز موجود ہیں، جو فوجی آپریشن کے دوران بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ سری لنکا کے شمال میں تامل آبادی سے تعلق رکھنے والے حکومت مخالف عسکریت پسندوں نے جولائی 1983ء میں علم بغاوت بلند کیا تھا۔

لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام یعنی LTTE یا صرف تامل ٹائیگرز کہلانے والے ان باغیوں کی تحریک کا مقصد تامل ایلام نامی ایک خود مختار ریاست کا قیام تھا۔

سری لنکن فوج نے طویل عرصے تک جاری جدوجہد کے بعد آخر کار مئی 2009ء میں بغاوت کی اس تحریک کو مکمل طور پر کچل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس 25 سالہ خونریزی میں خواتین اور بچوں سمیت لگ بھگ ایک لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ اس کے لئے جنگلات اور مقامی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

تامل باغیوں کی علیحدگی پسندانہ تحریک کو 32 ملکوں نے دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اس تحریک کے پر امن خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی ناکام رہا تھا۔ ایک تجویز کے مطابق 1987ء تا 90ء کے دوران فساد زدہ علاقوں میں بھارتی امن دستوں کی تعیناتی پر بھی غور کیا گیا تھا۔

Sarath Fonseka

سری لنکا کے سابق فوجی سربراہ جنرل ساراتھ فونسیکا

2001ء میں بین الاقوامی ثالثوں کی کوششوں سے تامل باغیوں اور حکومت کے مابین ایک امن معاہدہ بھی طے پاگیا تھا تاہم 2005ء میں بدامنی کے واقعات بڑھنے کے سبب یہ معاہدہ بھی مستقل قیام امن کا ضامن نہ بن سکا۔

سری لنکن کابینہ کے سینئر وزیر نے ملکی پارلیمان میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ باغیوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک اب بھی فعال ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں کہ تامل باغیوں کے بیرونی اثاثے منجمد کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ملک کے سابقہ شورش زدہ شمال مشرقی علاقوں میں ایک بار پھر لاقانونیت بڑھ رہی ہے۔

تامل نژاد سیاستدانوں نے ملکی پارلیمان میں جمع کرائی گئی ایک فہرست میں ان جرائم کا احاطہ کیا ہے جو جزیرہ نما جافنا پر بہت زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ان ارکان پارلیمان نے حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ آخر سلامتی کے کڑے حصار میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM