1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تامل باغیوں کے خلاف کارروائی ، بھارتی وفد سری لنکا میں

سری لنکا کی موجودہ کشیدہ صورت حال کے بارے میں بین الاقوامی برادری کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔

default

سری لنکا کے صدر مہندا راجاپاکشے

شمالی سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف ملکی فوج کی کارروائی کے باعث پیدا ہونے والے بحرانی حالات کے پس منظر میں اعلیٰ بھارتی نمائندوں کے ایک وفد نے جمعہ کے روز کولمبو میں صدر مہندا راجا پاکشے کے ساتھ ملاقات کی۔

اس ملاقات میں تامل ایلام کے لبریشن ٹائیگرز کے خلاف سری لنکا کی مسلح افواج کے ملک کے شمال میں جاری آپریشن سے پیدا ہونے والی اس بحرانی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا جس پر جنوبی بھارتی صوبے تامل ناڈو میں بھی بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

کولمبو میں سری لنکا کے صدر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھارتی وفد میں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن اور وزارت خارجہ کے سیکریٹری شیو شنکرمینن شامل تھے۔ ترجمان نے سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکشے کی بھارتی نمائندوں کے ساتھ اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے دیگر موضوعات کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

جمعرات کے روزبھارت نے سری لنکا میں جاری لڑائی کو فوری طورپر بند کروانے کے لئے نئی دہلی کی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ایک وفد کولمبو بھیجنے کا اعلان کیا تھا تا کہ شمالی سری لنکا میں تامل باغیوں کے زیر قبضہ اور فوج کے محاصرہ شدہ چھوٹے سے جنگ زدہ علاقے میں ابھی تک پھنسے ہوئے ہزار ہا عام شہریوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے میں مدد دے جاسکے۔

بھارتی وزیرخارجہ پرنب مکھرجی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ نئی دہلی حکومت کو سری لنکا میں بے گناہ تامل باشندوں کی ہلاکتوں پرانتہائی افسوس ہے اور اس کارروائی کو فوری طوربند ہونا چاہیے۔ مکھرجی کے بقول سری لنکا میں اس بحران پرفوجی کارروائی کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تامل باغیوں اور سرکاری دستوں کے مابین ہونے والی اس لڑائی میں گذشتہ صرف تین ماہ کے دوران چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سری لنکا کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بین الاقوامی برادری کے خدشات میں بھی مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ اسی بناء پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون ایک امدادی تنظیم کے کارکنوں کو شمالی سری لنکا بھیجنے کا حکم بھی دے چکے ہیں۔

DW.COM