1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تامل باغیوں کے خلاف کارروائی بند کی جائے: بھارت

دنیا کے مختلف ملکوں کے بعد اب بھارت نے بھی رسمی طور پر سری لنکا سے تامل باغیوں کے خلاف جاری آپریشن کو ختم کرنے کو کہا ہے۔

default

شمالی سری لنکا میں جاری لڑائی میں ہزاروں شہری بے گھر ہو چکے ہیں

سری لنکا کے دورے پر گئے بھارتی مندوبین ایم کے نارائنن اور شیو شنکر مینن نے سری لنکا کے صدر مہندا راجاپاکشے کے ساتھ آج ملاقات کی اور ان سے تامل باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق تامل ٹائیگرز اور سری لنکا فوج کے درمیان گُذشتہ تین ماہ سے جاری خون ریز جھڑپوں کی زد میں آکر اب تک ساڑھے چھہ ہزار سے زائد شہری مارے جاچکے ہیں۔

دریں اثنا ء سری لنکن فوج کا دعویٰ ہے کہ تامل باغیوں کے خلاف جاری آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ فوج کے مطابق تامل ٹائیگرز کے 54 سالہ سربراہ ویلو پیلائے پربھاکرن جنگل کے ایک علاقے میں پھنس گئے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے باغیوں کا کوئی تازہ ردّعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل باغیوں کی ایک خاتون ترجمان نے کہا تھا کہ ان کے رہنما آخری لمحوں میں بھی بچ کر نکل سکتے ہیں۔ فوج کے مطابق پیر کے روز سے جنگ زدہ علاقے سے کم از کم ایک لاکھ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے۔

BRITAIN_SRI_LANKA_L_5588855.jpg

تامل نسل کے باشندے کئی مغربی ملکوں میں مظاہرے کر رہے ہیں

دوسری طرف تقریباً پندرہ سو جرمنی میں مقیم تامل باشندوں نے دارالحکومت برلن کے مشہور برانڈن بُرگ گیٹ کے سامنے سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے خلاف جمعہ کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سری لنکا میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ تامل مظاہرین کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ وہ جرمن حکومت سے تاملوں کی مدد کے لئے مزید مدد کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

اس سے قبل جرمنی میں تاملوں نےبرلن میں چانسلر انگیلا میرکل کے دفتر کے باہر اور جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈوسلڈورف میں بھی مظاہرے کئے۔ تاملوں کی ایک بڑی تعداد لندن میں بھی مقیم ہے، جہاں وہ کئی روز سے سری لنکا حکومت اور فوج کے خلاف کئی احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لے چکی ہے۔