1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تامل باغیوں کی جدوجہد آخری دموں پر

ایک علٰیحدہ ریاست کے لئے تامل باغیوں کی گذشتہ پچیس سال سے جاری جدوجہد اب آخری دموں پر ہے۔ لڑائی کے اِس آخری مرحلے کے دوران سب سے زیادہ نقصان لاکھوں بے گناہ شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

default

تامل ٹائیگرز کے علاقے سے نکل آنے والے شہری فوجی چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے

سری لنکا میں رُبع صدی سے جاری خانہ جنگی اب تک ستر ہزار سے زیادہ جانیں لے چکی ہے۔ امدادی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق اب آخری مرحلے کے دوران دو تا تین لاکھ بے گناہ شہری علٰیحدگی پسند تامل باغیوں اور سرکاری اَفواج کے درمیان لڑائی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں روزانہ بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔

تنظیم ہیومین رائٹس واچ نے لڑائی کے فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات عاید کرتے ہوئےبتایا ہے کہ محض گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہی دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن کی ایک بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔

Soldaten der Armee in Sri Lanka

حکومتی فوج کے سپاہی ایک آپریشن کے دوران

سری لنکا کی سرگرم خاتون کارکن وشاکا دھرماداسا بتاتی ہیں: ’’اِس وقت سب سے اہم بات ہے، زندہ رہنا، اپنی اور اپنے بچوں کی جان بچانا۔ کچھ پتہ نہیں کہ انسان آنے والے لمحے کو دیکھنے کے لئے موجود بھی ہو گا یا نہیں‘‘۔

وشاکا دھرماداسا تامل نہیں بلکہ سنہالی ہیں لیکن وہ گذشتہ برسوں کے دوران شمالی سری لنکا کے تامل علاقوں کے متعدد دورے کر چکی ہیں اور یہ جانتی ہیں کہ جنگ کے باعث وہاں تینتیس ہزار عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں۔

دھرماداسا کے مطابق ایل ٹی ٹی ای یعنی لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کسی دوسرے سیارے سے آئی ہوئی مخلوق نہیں ہے۔ وہ بھی اِسی دھرتی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ لیکن دھرماداسا کا کہنا ہے کہ اپنی جائز تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے تاملوں نے غلط راستہ اختیار کیا۔ وہ کہتی ہیں:’’ہم ایل ٹی ٹی ای کو نیلسن منڈیلا کی یاد دلانا چاہتے ہیں۔ ہم اُنہیں بتانا چاہتے ہیں کہ انسان چاروں طرف سے گھرا ہونے کے باوجود ایک جائز مقصد کے لئے لڑ سکتا ہے۔ چنانچہ اِس لمحے درحقیقت اہم بات یہ ہے کہ تامل باغی ہتھیار ڈال دیں اور خونریزی بند کر دیں۔‘‘

Sri Lankische Armee beschlagnahmt Mini-U-Boot

سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے کہ تامل ٹائیگرز شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

حکومتی دَستوں نے گذرے چند مہینوں کے دوران باغیوں کو شمالی سری لنکا میں اُن کے بڑے اڈوں سے نکال باہر کیا ہے اور اُنہیں شمال مشرقی سری لنکا کی ایک چھوٹی سی ساحلی پٹی تک محدود کر دیا ہے۔ تاہم جس باغیوں کے جس آخری شہری مرکز کے خلاف سری لنکا کی فوج نے آج بڑے حملے کا آغاز کیا ہے، وہ باغیوں کے قبضے سے نکل بھی جائے، تب بھی قریبی جنگلات اور متعدد دیہات بدستور اُن کے قبضے میں رہیں گے۔

کل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مُون نے فائر بندی کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں کو بچایا جا سکے اور تنازعے کے سیاسی حل کے لئے بات چیت شروع کی جا سکے۔