تازہ کارروائيوں ميں قريب ساڑھے تين ہزار مہاجرين کو بچا ليا گيا | مہاجرین کا بحران | DW | 27.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تازہ کارروائيوں ميں قريب ساڑھے تين ہزار مہاجرين کو بچا ليا گيا

اطالوی کوسٹ گارڈز اور بحريہ نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بحيرہ روم ميں چھبيس مختلف آپريشنز کرتے ہوئے تقريباً 3,300 مہاجرين کو بچا ليا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی اطالوی شہر ميلان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پناہ گزين پچيس چھوٹی کشتيوں اور ايک بڑی کشتی ميں سوار تھے اور انہيں شمالی افريقہ کے ملک ليبيا کی شمالی ساحلی پٹی کے پاس سے بچايا گيا۔ اس بارے ميں انکشاف اطالوی کوسٹ گارڈ کی جانب سے ايک بيان ميں کيا گيا۔ بحيريہ کے ترجمان نے ايک مختلف بيان ميں بتايا کہ ريسکيو کارروائيوں کے دوران ايک شخص کی لاش نکالی گئی اور چار زخمی مہاجرين کو علاج کے ليے ہيلی کاپٹر پر ايک قريبی اطالوی شہر بھيج ديا گيا۔

ريسکيو کی يہ کارروائياں ليبيا کے ساحلی شہر سبراتھا سے پچپن کلوميٹر شمال ميں بحيرہ روم ميں کی گئيں۔ آپريشنز ميں اطالوی بحيرہ اورکوسٹ گارڈز کے بحری جہازوں کے علاوہ يورپی يونين کی بارڈر ايجنسی فرونٹيکس اور فرانسيسی امدادی تنظيم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی کشتيوں نے بھی حصہ ليا۔

سن 2015 ميں 3,700 سے زائد مہاجرين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہوئے

سن 2015 ميں 3,700 سے زائد مہاجرين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہوئے

اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق اس سال اب تک ساٹھ ہزار مہاجرين کو بحيرہ روم سے بچا کر اٹلی لايا جا چکا ہے۔ بلقان ممالک سے گزرنے والے روٹ کی بندش کے بعد سے يہ ملک سال رواں ميں اب مہاجرين کے بحران کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جمعے کے روز بھی اطالوی بحريہ اور کوسٹ گارڈز نے دو ہزار افراد کو موت کے منہ سے نکالا تھا۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی شمالی افريقہ ميں انسانوں کے اسمگلر کافی فعال ہو گئے ہيں اور ہزاروں لوگوں کو غير قانونی طور پر کشتيوں پر يورپ روانہ کر رہے ہيں۔

بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق پچھلے سال يعنی سن 2015 ميں 3,700 سے زائد مہاجرين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہوئے جبکہ سن 2014 سے لے کر اب تک بحيرہ روم ميں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد دس ہزار سے زائد بنتی ہے۔