1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

تاریخ ملبے تلے

تین مارچ کو جرمنی کے مغربی شہر کولون میں ایک اہم ’آرکائیو‘ عمارت کے منہدم ہونے سے جہاں جانی نقصان ہوا وہاں کارل مارکس اور ہائنرش بوئل کی نایاب دستاویزات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

default

کولون کی تاریخی ’آرکائیو‘ عمارت کے ملبے سے گمشدہ افراد اور تاریخی دستاویزات کو نکالا جا رہا ہے

بون کے قرب میں واقع کولون شہر کی اس عمارت میں اس شہر کی قریباً ہزار سالہ تاریخ محفوظ تھی۔ جرمن قوم کو اپنے تاریخی ورثے پر ناز ہے اوریہ اس کو محفوظ رکھنے اور اس کی ترویج کرنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کرتی ہے۔ اس عمارت کے منہدم ہوجانے اور اہم تاریخی ورثے کے نقصان کو جرمن باشندوں نے ایک سانحے کے طور پر محسوس کیا۔

BdT Deutschland Köln Stadtarchiv Buch

آرکائیوسٹ دستاویزات کو ملبے سے نکانے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں


کولون ہسٹوریکل آرکائیو کی ڈائریکٹر بیٹینا اشمڈٹ کے مطابق منہدم ’آرکائیو‘ عمارت کے ملبے سے تاریخی دستاویزات، تصاویر اور دیگر نایاب اشیاء نکالنے میں کم از کم چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ جرمنی اور اس کے پڑوسی یورپی ممالک سے تقریباً تین سو آرکائیوسٹوں نے منہدم عمارت کے ملبے سے دستاویزات بحفاظت نکالنے کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق ان دستاویزات کی بحالی پر لاکھوں یوروز خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔ صرف ایک عام فائل کی بحالی پر پندرہ ہزار سے بیس ہزار یوروز تک لاگت آ سکتی ہے۔ تاہم جرمنی ایسا کرنے پر تیّار ہے۔ بات اس ہزار سالہ تاریخ کی ہے جو کہ ضائع نہیں کی جاسکتی۔

Portrait von Karl Marx

عمارت میں کمیونزم کے بانی، مفکّر، فلسفی اور انقلابی کارل مارکس کی نایاب دستاویزات بھی محفوظ تھیں


یہ عمارت انیس سو اکہتر میں تعمیر کی گئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل اس میں چند دراڑیں دیکھی گئی تھیں تاہم جائزے کے بعد ان کو بےضرر قرار دیا گیا تھا۔ تین مارچ کو یہ عمارت ذمیں بوس ہوگئی۔ اس عمارت میں کولون کی تاریخ سے متعلق تقیباً پینسٹھ ہزار دستاویزت موجود تھیں جن میں سے ایک کا تو سن نو سوبائیس سے تعلق تھا۔ یہاں مشہور کمیونسٹ مفکّر کارل مارکس اور نوبیل انعام یافتہ جرمن مصنّف ہائنرش بوئل کی نایاب دستاویزات بھی موجود تھیں۔ علاوہ ازیں یہاں معروف جرمن فلسفی ہیگیل کے خطوط اور نپولین کے احکامات سے متعلق دستاویزات بھی محفوظ کیے گئے تھے۔

Köln Buch aus dem eingestürzten Kölner Stadtarchiv

دستاویزات اور اشیاء کو سکھا کر اور صاف کرکے بحفاظت ایک نئی ’آرکائیو‘ عمارت میں منتقل کیا جا رہا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمارت کے ذمیں بوس ہونے کی وجہ سے ’آرکائیوز‘ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے ہیں مگر ذمین کے پانی اور مٹّی سے اس کو بتدریج نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی واسطے ان دستاویزات کو ملبے سے نکالنے کا کام انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ آرکائیوسٹ دستاویزات کو ملبے سے نکال رہے ہیں، وہ ان کو سکھا کر اور صاف کرکے بحفاظت ایک نئی ’آرکائیو‘ عمارت میں منتقل کر رہے ہیں۔ جو دستاویزات شدید متاثر ہوئی ہیں ان کو ’فریز ڈرائنگ‘ یا منجمد حالت تک خشک کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس واقعے میں دو افراد کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ کولون کے ایک اخبار ’کولنراشٹاڈٹ آنسائگر‘ کے مطابق گزشتہ برس ستمبر میں ہائڈرولک گراؤنڈ بریک کی وجہ سے عمارت کی بنیادوں میں پانی داخل ہوگیا تھا۔ اخبار کے مطابق بعض افراد اس حوالے سے معلومات رکھتے تھے تاہم بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ کولون کے میئر نے کہا ہے کہ انہوں نے اس ’سانحے‘ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ان افراد کے خلاف کارروائی ہوگی جو اس حوالے سے کچھ جانتے تھے مگر انہوں نے حکّام کو مطلع کرنا ضروری نہ سمجھا۔

Audios and videos on the topic