1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تاریخ ساز منڈیلا 92 برس کے ہوگئے

عالمی شہرت یافتہ افریقی رہنما نیلسن منڈیلا نے اپنی 92ویں سالگرہ انتہائی سادگی سے جوہانسبرگ کے آبائی گھر میں منائی۔ عالمی رہنماوں نے انہیں سالگرہ کے مبارکبادی پیغامات بھیجے ہیں۔

default

۔

امریکی صدر باراک اوباما نے منڈیلا کے نام بھیجے گئے پیغام میں لکھا ہے، ’’ ہم خوش نصیب ہیں کہ ابھی تک ان کے غیر معمولی نظریے، قائدانہ صلاحیتوں اور جذبے سے مستفید ہورہے ہیں۔ ‘‘  اوباما کے بقول وہ منڈیلا کے نظریے کے تحت برداشت، مصالحت اور ہمدردی کی اقدار کو آگے بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اتوار کو منڈیلا کی سالگرہ کی تقریب میں زامبیا کے سابق صدر کینتھ کاؤڈا گنے چنے مہمانوں میں سے ایک تھے۔

Flash-Galerie Nelson Mandela

منڈیلا ستائیس سالہ قید کے بعد مداحوں کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

منڈیلا کی اہلیہ گریس ماچل کے بقول اگرچہ منڈیلا اب ضعیف ہوتے جارہے ہیں تاہم وہ زندگی سے بھرپور اور صحت مند ہیں۔ اٹھارہ جولائی ہی کو اقوام متحدہ نے پہلا بین الاقوامی نیلسن منڈیلا دن قرار دیا ہے۔  اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں عوام سے 67 منٹ رضا کارانہ سرگرمیوں کے لئے مختص کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ 67 منٹ دراصل منڈیلا کی اتنے ہی سال کی طویل جدوجہد کو یاد کرنے کے لئے ہیں جو انہوں نے افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف وقف کئے۔ اقوام متحدہ کے تحت اٹھارہ جولائی کے دن متعدد ممالک میں سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ سوڈان میں ’فٹبال برائے امن‘ کے نام سے کھیلوں کا مقابلہ منعقد کیا گیا، سپین میں پندرہ میل پیدل چلنے کا پروگرام منعقد کیا گیا جس کے ذریعے رضا کارانہ سرگرمیوں کے لئے امداد بھی جمع کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول، ’’ نیلسن منڈیلا عظیم ہستی ہیں، وہ انسانیت کی عظیم اقدار کے نمائندگی کرتے ہیں۔ ‘‘

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے منڈیلا کو اتحاد اور برداشت کی علامت قرار دیا۔ منڈیلا کو ان کے چاہنے والے ماڈی با کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

Nelson Mandela im Gefängnis

نیلسن منڈیلا کی جوانی کی ایک یاد گار تصویر

منڈیلا کو جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے دور تسلط میں ستائیس برس پابند سلاسل رکھا گیا تھا۔ انہیں 1990ء میں رہا کیا گیا۔ 1994 میں وہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے اور 1999ء تک اس منسب پر فائز رہے۔

1993ء میں امن کا نوبل انعام جیتنے کے ساتھ وہ مصالحت اور امن سے متعلق ڈھائی سو سے زائد ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM