1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تاریخی مقبروں کو نقصان پہنچانے والا شدت پسند شرمسار

عالمی فوجداری عدالت میں ایک مسلمان شدت پسند نے مالی کے شہر ٹمبکٹو میں واقع صدیوں پرانے مقبروں کو نقصان پہنچانے کا اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے۔ ثقافتی تباہی سے متعلق یہ پہلا مقدمہ ہے جو بین الاقوامی عدالت میں سنا جا رہا ہے۔

احمد فقیہ المھدی

احمد فقیہ المھدی

دی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں اپنے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے کے پہلے روز آج پیر 22 اگست کو احمد فقیہ المھدی نے ججوں کو بتایا کہ اسے اپنے اقدامات پر شرمندگی ہے اور وہ مالی کے لوگوں سے معافی کا طلب گار ہے۔ مالی کے عوام سے معافی طلب کرتے ہوئے المھدی کا کہنا تھا کہ اسے ’’ایک ایسا بیٹا سمجھا جائے جو بھٹک گیا تھا‘‘۔ اس کا کہنا تھا، ’’مجھے شدید افسوس ہے۔ میں بے حد نادم ہوں اور مجھے اس تمام نقصان پر شرمندگی ہے جو میرے اقدامات کی وجہ سے ہوا۔‘‘

المھدی انصار الدین نامی اس شدت پسند گروپ کا سربراہ تھا جس نے کدالوں اور بیلچوں کے ذریعے شہر کے 16 میں سے 14 قدیم مقبروں کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ مقبرے اقوام متحدہ کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل تھے۔ اس گروپ کا دعویٰ تھا کہ یہ عمارات ’جُھوٹے بتوں‘ کی یاد گاریں تھیں اور وہ مذہب اسلام کی ان کی تعریف پر پورے نہیں اُترتے تھے۔

آئی سی سی کی طرف سے مرکزی وکیل استغاثہ فاتو بنسودہ نے عدالت کو بتایا کہ المھدی نے تباہ کی جانے والی عمارات کی ’’نشاندھی اور پھر ان کو تباہ کرنے کی ترتیب طے کر کے‘‘ اس تباہی میں میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ المھدی کو گزشتہ برس نائجر سے گرفتار کر کے اس عدالت کے حوالے کیا گیا تھا۔

المھدی انصار الدین نامی اس شدت پسند گروپ کا سربراہ تھا جس نے کدالوں اور بیلچوں کے ذریعے شہر کے 16 میں سے 14 قدیم مقبروں کو تباہ کر دیا تھا

المھدی انصار الدین نامی اس شدت پسند گروپ کا سربراہ تھا جس نے کدالوں اور بیلچوں کے ذریعے شہر کے 16 میں سے 14 قدیم مقبروں کو تباہ کر دیا تھا

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق احمد فقیہ المھدی کی طرف سے اپنے جرم کے اعتراف کا مطلب ہے کہ اب قانونی کارروائی چند دنوں کے اندر مکمل ہو سکے گی اور سزا سنائے جانے کے مرحلے کا آغاز ہو جائے گا۔ اس طرح کسی مقدمے کی کارروائی میں برسوں لگا دینے کی شہرت رکھنے والی عالمی فوجداری عدالت کی طرف سے یہ تیز رفتار ترین مقدمہ بن جائے گا۔

المھدی کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ یا آئی سی سی کا مقدمہ نو مقبروں کی مکمل یا جزوی تباہی سے متعلق ہے۔ ان مقبروں میں مسلمان مذہبی شخصیات مدفون تھیں۔ اس کے علاوہ سیدی یحییٰ نامی مسجد کی تباہی بھی شامل ہے جو 15ویں صدی میں تعمیر کی گئی۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے کسی شخص کے خلاف مذہبی یا تاریخی اہمیت کے مقامات کو نشانہ بنانے پر یہ پہلا مقدمہ ہے۔

انصار الدین اُن دو شدت پسند گروپوں میں سے ایک تھا جنہوں نے مالی شمالی حصے کے شہر ٹمبکٹو پر قبضہ کر لیا تھا۔ فرانسیسی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں اِن شدت پسندوں کو اپریل 2013ء میں ٹمبکٹو سے نکال باہر کیا گیا تھا۔