1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

تاریخی شاہی کتب کی جنوبی کوریا کو واپسی

جنوبی کوریا میں آج ہفتہ کو تاریخی اہمیت کی حامل ان بیش قیمت شاہی کتابوں کی وطن واپسی کی مناسبت سے روایتی مارچ کے ساتھ ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا، جو 145 سال قبل فرانسیسی فوجی لوٹ کر اپنے ساتھ فرانس لے گئے تھے۔

default

کوریا پر جاپان کے نو آبادیاتی قبضے کے دوران ٹوکیو پہنچا دی گئی 167 کوریائی اوئیگوے کتابوں میں سے ایک کا عکس

سیول سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس تقریب کے دوران رنگا رنگ روایتی لباس پہنے لیکن بڑے باوقار انداز میں مارچ کرنے والے قریب 500 جنوبی کوریائی شہریوں میں سے کئی ایک نے بڑی عقیدت کے ساتھ یہ کتابیں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ ان کتابوں کو لے کر سیول میں گائی یونگ بوک نامی اس محل تک گئے، جو جزیرہ نما کوریا پر صدیوں تک حکومت کرنے والے چوسُن خاندان کے دور میں تعمیر کیا جانے والا سب سے بڑا محل ہے۔

Jack Lang ehemaliger Kulturminister Frankreich

سابق فرانسیسی وزیر ثقافت جیک لانگ

چوسُن خاندان نے جزیرہ نما کوریا کی شاہی ریاست پر سن 1392 سے لے کر 1910ء تک حکومت کی تھی۔ فرانس اور جنوبی کوریا کے درمیان ان تاریخی کتب کی سیول کو واپسی کے متنازعہ موضوع پر سفارتی جھگڑا سالہا سال تک جاری رہا تھا۔ اس بارے میں حتمی تصفیہ ابھی چند ماہ پہلے ہی ہوا تھا۔ پھر اسی سال اپریل اور مئی کے مہینوں میں پیرس حکومت نے سیول کو اوئیگوے (Uigwe) کہلانے والی ان تاریخی شاہی کتب کی کل 296 جلدیں لوٹا دی تھیں۔

ان کتابوں میں چوسُن شاہی خاندان کے دور اقتدار کے کئی سو سالہ عرصے کے دوران تاریخی اہمیت کی حامل لاتعداد شاہی تقریبات کی تصویری عکاسی کی گئی ہے، جو کوریا کی تاریخ کے اُس دور کا مستند ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔

Nordkorea Südkorea Kriegsschiff Konflikt

جنوبی کوریائی صدر لی میونگ بک

اس بارے میں آج ہفتہ کے روز سیول میں چوسُن دور کے سب سے بڑے محل میں منعقد ہونے والی شاندار تقریب میں جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک اور فرانس کے سابق وزیر ثقافت جیک لانگ بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر جنوبی کوریائی صدر ہاتھی دانت کے رنگ کا روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ اوئیگوے، جو 145 سال پہلے لوٹ لیے گئے تھے، واپس اپنی اصلی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘

جنوبی کوریا مشرق بعید کا ایک ایسا ملک ہے جو اپنی زیر و بم سے عبارت ریاستی تاریخ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ کوریا کی وسیع تر ثقافتی میراث کا ایک بہت بڑا حصہ سن 1910 سے لے کر 1945 تک جاری رہنے والے جاپانی قبضے کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ بعد میں سن 1950 سے لے کر 1953ء تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ نے بھی اس ورثے کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔

فرانس نے جنوبی کوریا کو اب اس کی جو تاریخی شاہی کتابیں واپس کی ہیں، وہ سن 1866 میں اس وقت لوٹ لی گئی تھیں، جب فرانسیسی فوجیوں نے چوسُن بادشاہت کے دور میں فرانسیسی کیتھولک مشنری شخصیات کے قتل کے جواب میں سیول سے مغرب کی طرف واقع گنگ ہوا نامی جزیرے پر فوجی مداخلت کے بعد اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس