1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن کے لیے جرمن زبان کی تدریس

مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران لاکھوں بچے بھی شام اور دیگر شورش زدہ ممالک سے جرمنی پہنچے ہیں۔ رواں برس کے دوران دو لاکھ کے قریب مہاجر بچوں کو جرمنی کے اسکولوں میں جرمن زبان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی کی سولہ ریاستوں میں جرمن زبان سیکھنے والے بچوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ نے مختلف جرمن اسکولوں کا جائزہ لینے کے بعد جمع کیے ہیں۔

اخبار کے مطابق ابھی تک ملک بھر میں جرمن زبان کی تدریس کے لیے کم از کم 8264 خصوصی کلاسوں کا اجراء کیا گیا۔ مذکورہ اخبار کا خیال ہے کہ جرمن زبان سیکھنے والے مہاجر بچوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ جرمن اسکولوں میں زیر تعلیم مہاجرین کے بچوں کا اندراج الگ سے نہیں کیا جاتا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2015ء کے دوران جرمن زبان سکھانے کی مانگ میں اضافے کے وجہ سے مختلف جرمن ریاستوں کی جانب سے ساڑھے آٹھ ہزار نئے اساتذہ کو بھی بھرتی کیا گیا ہے۔

جرمنی میں تعلیم کا شعبہ صوبائی حکومتیں اپنے طور پر دیکھتی ہیں۔ تمام صوبوں کی تعلیم کی وزارتوں کی تنظیم (کے ایم کے) کی حال ہی میں سبکدوش ہونے والی صدر، برُن ہلِڈ کُرتھ کا کہنا ہے، ’’تعلیم کی وزارتوں اور اسکولوں کے لیے یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس غیر معمولی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسکولوں کی انتظامیہ کو لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔‘‘

کُرتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صورت حال اتنی بھی مایوس کن نہیں ہے اور اسکولوں پر اتنا بھی بوجھ نہیں ہے کہ وہ کام نہ کر سکیں تاہم ’’ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ غیر معمولی صورت حال طویل مدت تک جاری رہے گی۔‘‘

ماہرین لسانیات کی تنظیم کے صدر ہائنز پیٹر مائڈِنگر کہتے ہیں کہ جرمن نظام تعلیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اگلے برس کتنی تعداد میں مہاجر بچے جرمنی پہنچیں گے۔

مائڈِنگر کی رائے میں 2016ء میں جرمن زبان سکھانے کے لیے مزید اساتذہ کی ضروت پڑے گی۔ ان کا کہنا ہے، ’’اساتذہ کی تعداد میں حالیہ اضافہ تو ان طلبا کو جرمن زبان سکھانے کے لیے ناکافی ہے جو پہلے ہی جرمنی میں موجود ہیں۔‘‘

مائڈِنگر کے اندازے کے مطابق اس وقت ملک بھر میں بیس ہزار سے زائد اساتذہ کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کا اندازہ اگلے چند مہینوں کے دوران صوبائی حکومتوں کو ہو جائے گا۔