1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں قانون منظور

سوئس پارلیمان نے جمعے کے روز ایک نئے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں ملازمتوں پر سب سے پہلا حق سوئس شہریوں کو ہو گا۔

سوئٹرزلینڈ میں مسلسل یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ ملک میں نوکریوں کے مواقع کے لیے مقامی شہریوں کا ایک کوٹہ مقرر کیا جائے، تاہم اس حوالے سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اگر سوئٹزرلینڈ ایسا کوئی سخت گیر قانون منظور کرتا ہے، تو اس کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گی۔

یورپی کمیشن نے اس قانون کی منظوری کا محتاط انداز سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے بات چیت کی جائے گی، تاکہ دیکھا جائے کہ کہیں اس قانون سے یورپی شہریوں کے حقوق تو متاثر نہیں ہوں گے۔ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے یہ قانون ایک ایسے موقع پر منظور کیا گیا ہے، جب برطانیہ بھی یورپی یونین سے اخراج کے راستے پر ہے۔

یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ قانون مثبت سمت میں ایک قدم ہے، کیوں کہ اس میں یورپی شہریوں کے لیے کوئی خاص کوٹہ مقرر کر کے ان کی ملازمتوں کے مواقع کو محدود نہیں کیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر اس حوالے سے سوئس صدر ژوہان شنائیڈر امان سے جمعے کی شام ملاقات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین اور سوئٹزرلینڈ کی ایک کمیٹی بھی اس موضوع پر رواں ماہ کی 22 تاریخ کو ملے گی۔

یورپی یونین کی کوشش ہے کہ وہ شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی سے متعلق کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرے۔ اسی نکتے کے ساتھ یورپی یونین نے اپنی پانچ سو ملین نفوس کی اقتصادی منڈی تک رسائی کو بھی نتھی کر رکھا ہے۔ رواں برس جون میں برطانیہ میں ایک ریفرنڈم میں یورپی یونین کے اخراج کے حق میں رائے سامنے آنے کے بعد بھی یورپی یونین نے اس معاملے پر اب تک اپنا یہی موقف رکھا ہےکہ اگر برطانیہ یورپی شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر قدغن عائد کرتا ہے، تو اسے یورپی منڈیوں تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہو گی۔