1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تارکین وطن کی ہلاکت پر فلورنس غمزدہ

اطالوی شہر فلورنس دائیں بازو کے ایک انتہا پسند کی فائرنگ کے بعد سے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ منگل کو اس انتہا پسند نظریات کے حامل شخص نے فلورنس کے دو مرکزی علاقوں میں فائرنگ کرکے دو افراد کو ہلاک کر نےکے بعد خودکشی کر لی۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اطالوی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ منگل کو دن دیہاڑے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے Gianluca Casseri نامی ایک مصنف نے شہر کے دو اہم مقامات پر فائرنگ کرکے دو تارکین وطن کو ہلاک کر دیا جبکہ اس فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے بقول ایک مسلح شخص نے سٹی سینٹر کے شمال میں واقع Piazza Dalmazia میں گھات لگا کر سینیگال سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔ اس نے تین فائر کیے، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرا زخمی ہو گیا۔

بعد ازاں Casseri گاڑی میں بیٹھ کر شہر میں واقع San Lorenzo نامی مرکزی مارکیٹ پہنچا، اور وہاں اس نے مزید دو خوانچہ فروشوں کو نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔ بعد ازاں جب پولیس نے اسے گھیر لیا تو اس نے خودکشی کر لی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد اس حملہ آور کی شناخت Gianluca Casseri کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کی عمر پچاس برس بتائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں Casseri کا ساتھی کوئی نہیں تھا بلکہ یہ کارروائی اس نے اکیلے ہی کی۔

Sonnenschein am Züricher See

فلورنس شہر کے میئر Matteo Renzi

بعد ازاں سینیگال سے تعلق رکھنے والے قریب دو سو افراد نے فلورنس شہر کے مرکز میں پر امن مظاہرہ کیا اور نسل پرستی کے خلاف نعرہ بازی کی۔ شہر کے میئر Matteo Renzi نے اس پر تشدد واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: ’آج فلورنس شہرکا دل رو رہا ہے۔‘ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا کہ بدھ کو شہر بھر میں سوگ منایا جا ئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینیگال کے باشندوں پر ہونے والے ان حملوں سے شہر کے تمام عوام غمزدہ اور اداس ہیں۔

اطالوی صدر جارج ناپولی تانو نے بھی اس تشدد آمیز واقعہ کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی کی روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ یہاں نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے اطالوی عوام اور حکام پر زور دیا کہ وہ ان روایات کی پاسداری کریں۔

ناول نگار Gianluca Casseri کا تعلق Casa Pound نامی دائیں بازو کے ایک گروہ سے بتایا گیا ہے۔ تاہم اس گروہ نے اس واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ Casseri فلورنس میں شائع ہونے والے ایک میگزین میں ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد Casseri کے دوستوں اور جاننے والوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ ایسا کوئی کام کر سکتا ہے۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم ایسے خدشات ہیں کہ اس بارے میں کوئی زیادہ معلومات حاصل نہ ہو سکیں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت:ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس