1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، قریب سو مہاجر لاپتہ

لیبیا کی سمندری حدود میں بحیرہء روم میں تارکین وطن کی کشتی غرق ہو گئی، جس کے نتیجے میں سو افراد کے لاپتا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لیبیا کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ تارکین وطن سے بھری ایک کشتی ڈوب گئی۔ لیبیا کی بحریہ کے ترجمان ایوب قاسم نے بتایا کہ اس حادثے کے بعد 23 تارکین وطن کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم خدشہ ہے کہ حادثے میں قریب سو دیگر لاپتا ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس کشتی کے بچا لیے جانے والے تارکین وطن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپ کی جانب نکلتے ہوئے اس کشتی پر قریب ایک سو بیس افراد سوار تھے، جن میں 15 خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ایوب قاسم کے مطابق یہ کشتی ٹوٹے پھوٹی تھی، جو سمندری موجوں کا مقابلہ نہ کر پائی اور ڈوب گئی۔

Libyen Flüchtlinge auf Booten nach Rettung (picture-alliance/AP Photo/S. Palacios)

تارکین وطن یورپ پہنچنے کے لیے اسی راستے کا سب سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں

غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا اس وقت ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں کسی موثر اور فعال حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے انسانوں کے اسمگلر سرگرم ہیں۔ روئٹرز کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں اوسطاﹰ ڈیڑھ لاکھ افراد نے انہیں سمندری راستوں کو استعمال کر کے اٹلی کا رخ کیا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ انسانوں کے اسمگلر شکستہ کشتیوں میں ان تارکین وطن کو بین الاقوامی پانیوں تک لے آتے ہیں، جب کہ یہاں سے امدادی کشتیاں انہیں ریسکیو کر کے اطالوی جزائر پر پہنچا دیتی ہیں۔ تاہم لیبیا کے کوسٹ گارڈز بعض کشتیوں کو روک کر تارکین وطن کو واپس لیبیا لے جاتے ہیں۔