تارکین وطن کی غیر قانونی ملازمتیں، یورپی کمیشن کا سختی کا مطالبہ | مہاجرین کا بحران | DW | 05.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن کی غیر قانونی ملازمتیں، یورپی کمیشن کا سختی کا مطالبہ

یورپی کمیشن نے یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس بلاک میں غیر قانونی طور پر ملازمتیں کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن اور ان کے آجر افراد اور اداروں کے خلاف زیادہ سخت اقدامات کریں۔

یورپی یونین کے داخلی اور مہاجرین سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس نے ایک جرمن اخبار ’دی وَیلٹ‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں یونین کے رکن ممالک سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آوراموپولوس کے مطابق یورپ کی جانب غیر قانونی مہاجرت کی روک تھام کے لیے ان وجوہات کا خاتمہ ضروری ہے، جن کے باعث تارکین وطن یورپ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

جرمنی: غیر قانونی ملازمت، نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

’مہاجرت کے اسباب کا خاتمہ ضروری‘

جرمن جریدے کو دیے گئے اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا، ’’سب سے ضروری بات یہ ہے کہ یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کو یونین کے رکن ممالک کی بلیک مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے سے روکا جائے۔‘‘ یورپی کمشنر برائے مہاجرت کے مطابق تارکین وطن کا غیر قانونی ملازمتیں کرنا نہ صرف ٹیکس ادا کرنے والے یورپی شہریوں کے ساتھ ’نا انصافی‘ ہے بلکہ اس کے باعث خود غیر قانونی تارکین وطن کو بھی استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آوراموپولوس نے یونین کی تمام رکن ریاستوں کی حکومتوں سے بلیک مارکیٹ میں کام کرنے والے تارکین وطن اور انہیں روزگار فراہم کرنے والے آجروں کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’رکن ریاستوں کے لیبر مارکیٹ سے متعلق ملکی اور مقامی دفاتر اس حوالے سے جاری کردہ احکامات پر مکمل عمل درآمد کریں‘۔

یورپی یونین کے مہاجرت سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر نے اس انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ آئندہ مہینوں کے دوران یورپی یونین اس امر کا کڑا جائزہ لے گی کہ رکن ریاستوں نے روزگار کی قومی منڈیوں کی نگرانی کے لیے یورپی کمیشن کی ہدایات پر کس حد تک عمل کیا ہے۔

ملک بدریوں میں تیزی

دیمیتریس آوراموپولوس نے اس حوالے سے بھی یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ غیر قانونی طور پر یورپ آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی ملک بدریوں میں اضافہ اور تسلسل لایا جائے۔ آوراموپولوس کا کہنا تھا، ’’یہ ہماری مائیگریشن پالیسی کا ایک لازمی حصہ ہے کہ ایسے افراد کو، جو یورپ میں پناہ کے حصول کے حقدار نہیں ہیں، ملک بدر کر کے واپس ان کے آبائی وطنوں کی جانب روانہ کیا جائے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ سن 2016 میں یورپی یونین کی حدود کے باہر سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد تھی تاہم ان میں سے محض ایک چوتھائی تارکین وطن کو ہی ملک بدر کر کے یونین سے باہر ان کا ممالک میں بھیجا جا سکا۔

’جرمنی مہاجرین کے خوابوں کی منزل ہے لیکن ہماری بھی حدود ہیں‘

 

DW.COM