1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’تارکین وطن کی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے سربراہ نے شورش زدہ ممالک سے بھاگ کر اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر پناہ کی تلاش میں نکلنے والے مہاجرین کے خلاف پائی جانے والی نفرت کو پریشان کن قرار دیا ہے۔

تھومسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آئی او ایم کے سربراہ ولیم لیئسی سوِنگ کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کا خوف اور مہاجرین مخالف جذبات کی بنیاد دقیانوسی تصورات اور قومی شناخت کھو جانے کا خوف ہے۔ سوِنگ کا کہنا ہے کہ یہ ’پوسٹ 9/11 سیکورٹی سنڈروم‘ ہے۔ اس سے مراد گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرانہ حملوں کے بعد سے دنیا بھر میں جاری عدم تحفظ کا ماحول ہے۔

اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سوِنگ کا کہنا تھا، ’’پیرس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد یورپ میں آنے والے ہر تارک وطن کو ممکنہ دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔‘‘

William Lacy Swing

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے سربراہ ولیم لیئسی سوِنگ

رواں برس تیرہ نومبر کو پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر دو دہشت گرد مہاجرین کے روپ میں یورپ پہنچے تھے جس کے بعد سے یہ خوف پایا جاتا ہے کہ دہشت گرد مہاجرین کے حالیہ بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

شام، افغانستان اور دیگر شورش زدہ ممالک سے بھاگ کر یورپ آنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق ان علاقوں سے ہے جہاں دہشت گرد بھی سرگرم ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی آمد نے ’غیر معمولی مہاجر مخالف جذبات‘ کو جنم دیا ہے۔

اس صورت حال پر آئی او ایم کے سربراہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’بڑھتے ہوئے مہاجرین مخالف جذبات غیر ملکیوں سے نفرت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ جس طرح کے بیانات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں ان کے باعث تارکین وطن کی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘‘

دنیا کے 162 ممالک بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے رکن ہیں۔ اس تنظیم کے دفاتر سو سے زائد ممالک میں موجود ہیں۔ سوِنگ کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں پناہ لیے ہوئے تارکین وطن ان معاشروں میں مثبت کردار کر کے مہاجرین کے حالیہ بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’’بیشتر ممالک میں تارکین وطن آتے ہیں اور ان ممالک کو ہمیشہ اس سے فائدہ پہنچا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ایسے مثبت اعداد و شمار لوگوں کو بار بار دکھائیں تاکہ انہیں بھی اس بات کا علم ہو۔‘‘

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے چھتیس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث چالیس لاکھ سے زائد افراد دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

جب سوِنگ سے پوچھا گیا کہ کیا یورپ اور امریکہ کی سیاسی قیادت مہاجرین مخالف جذبات ختم کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا ضروری ہے اور انہیں ’’اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ امریکا اور دیگر ممالک نے تارکین وطن کی افرادی قوت اور ان کے ذہنوں کا استعمال کرتے ہوئے کیسے ترقی کی ہے۔‘‘

سوِنگ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں اور اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹرُوڈو کے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے پر ان کے معترف ہیں۔

DW.COM