1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تارکین وطن کی تعداد کی کوئی حد طے نہیں کی گئی ہے: میرکل

جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ سردست جرمنی نے مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے تعداد کے لیے کسی قانونی حد کا تعین نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب ہنگری کی حکومت نے ہزاروں تارکین وطن کو بسوں کے ذریعے آسٹریا پہچانا شروع کر رکھا ہے۔

default

ہنگری میں مہاجرین جرمن چانسلر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ  جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد کے بارے میں فی الحال تعداد کی کوئی قانونی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ جرمن چانسلر کا ایک انٹرویو آج ہفتے کے روز اخبارات کے ایک کنسورشیم ’فنکے‘ میں شائع ہوا ہے۔ میرکل کے مطابق سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کے لیے بھی تارکین وطن کے آمد کے تناظر میں بظاہر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ میرکل کے مطابق جرمنی ایک مضبوط اقتصادی ملک ہے اور اِس حیثیت میں اُن کا ملک وہ سب کچھ کرے گا جو ضروری خیال کیا جائے گا۔ میرکل نے یہ بھی واضح کیا کہ جو بھی پناہ گزین ہیں، اُنہیں اُن کے ملک کے حالات بہتر ہونے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔

اُدھر ہنگری سے مہاجرین کو آسٹریا کی سرحد پر واقع مقام ہیگیا شالوم تک پہچایا جا رہا ہے۔ آسٹریا کے محکمہ ریلوے نے کہا ہے کہ ہنگری سے داخل ہونے والے مہاجرین کے سرحدی علاقوں میں  داخل ہونے کے بعد ویانا اور سالزبرگ کے ریلوے اسٹیشنوں پر کھانے پینے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ اِسی دوران آسٹریا کی پولیس نے کہا ہے کہ یہ امکان موجود ہے کہ آج ہفتے کے روز آسٹریا داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد دس ہزار تک پہنچ جائے۔ علاقائی پولیس کے ترجمان ہانس پیٹر ڈوکوزل کے مطابق ہفتے کی صبح چار ہزار تارکین وطن آسٹریا میں داخل ہوئے تھے۔

Ungarn Flüchtlinge in Budapest machen sich zu Fuß auf nach Deutschand

بوڈاپیسٹ سے ویانا کی جانب مہاجرین پیدل روانہ ہیں

دوسری جانب ہنگری کی حکومت بسوں کے ذریعے تارکین وطن کو مغربی یورپ کی جانب روانہ کر رہی ہے اور اِس کا مقصد دارالحکومت بوڈا پیسٹ پر مہاجرین کے دباؤ کو کم کرنا تھا۔ درجنوں بسوں کا استعمال بوڈا پیسٹ ریلوے اسٹیشن کی بندش کے بعد مہاجرین کی بڑھتی تعداد کے دباؤ کا نتیجہ خیال کیا گیا ہے۔ ہنگری کی حکومت نے گزشتہ منگل کو دارالحکومت کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کو بند کر دیا تھا۔ ریل گاڑی کی عدم دستیابی کے بعد مہاجرین نے ویانا کی سرحد کی جانب پیدل سفر شروع کر دیا تھا۔ ہنگری میں زیادہ تر شامی مہاجرین پہنچے ہیں۔ اُدھر آسٹریا نے جرمنی کے ساتھ مہاجرین کی آمد پر اتفاق کیا ہے۔دریں اثناء جرمنی میں ہزاروں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا تعلق شام، اریٹیریا اور دوسرے بحران زدہ ملکوں سے ہے۔

 کل جمعے کے روز نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ہنگری کے  وزیر اعظم وکٹور اوربان نے کہا تھا کہ  یورپ کو مہاجرین اور پناہ گزینوں کی انتہائی بڑی لہر کا سامنا ہے اور لاکھوں لوگ یورپ پہنچ سکتے ہیں۔ اوربان نے یہ بات اپنے ملکی سرکاری ریڈیو پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ اُن کا مزید کہنا تھا اگر یہ لاکھوں مہاجرین یورپ پہنچ گئے تو ایک دن وہ اپنے ہی براعظم میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔