1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن کو پناہ دیں، ایک ہزار یورو اضافی حاصل کریں

جرمن صوبے باویریا کے ایک ڈویژن وُرسبرگ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس انتظامی علاقے کے ہر اس شہر کو، جو تارکین وطن کو اپنے ہاں پناہ دے گا، فی غیر ملکی اضافی طور پر سالانہ ایک ہزار یورو فراہم کیے جائیں گے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق وُرسبرگ ڈویژن کی جانب سے مقامی بلدیاتی اداروں کو فی تارک وطن ایک ہزار یورو اضافی مالی امداد دینے کے فیصلے کا مقصد اس ’کرائس‘ (Kreis) یا ڈویژن کے شہروں اور قصبوں کو اس بات کی طرف راغب کرنا ہے کہ وہ اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ تارکین وطن کو پناہ دیں۔ جرمن بلدیاتی علاقوں کی ملکی تنظیم کے مطابق وُرسبرگ ڈویژن کی جانب سے کیا گیا یہ فیصلہ ملک بھر میں اپنی نوعیت کا واحد اور پہلا اقدام ہے۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

دوسری طرف صوبے باویریا کے ڈویژنل سطح کے انتظامی علاقوں کی تنظیم نے وُرسبرگ ڈویژن کے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق بلدیاتی انتظامی علاقوں کو ایسی خصوصی مراعات کی فراہمی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومتیں ہی کر سکتی ہیں، نہ کہ ان سے نچلی سطح کا کوئی بھی منتخب جمہوری ادارہ۔

اگر ڈویژنل سطح کے پارلیمانی اداروں کی ملکی تنظیم نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو اپنے ہاں مہاجرین اور تارکین وطن کو قبول کرنے والے بلدیاتی اداروں کو اعلان کردہ فی کس سالانہ اضافی رقوم کی فراہمی اگلے برس جنوری سے شروع کر دی جائے گی۔ غالب امکان یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی کیوں کہ وُرسبرگ ڈویژن میں شامل بلدیاتی علاقوں کے تمام 52 میئر اس منصوبے پر پہلے ہی متفق ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران جرمنی میں چار بڑے پرُ تشدد واقعات میں سے تین واقعات صوبے باویریا میں پیش آئے تھے۔ گزشتہ پیر کے روز وُرسبرگ میں ہی کلہاڑی اور خنجر سے مسلح ایک پناہ گزین نے ایک مسافر ٹرین میں حملہ کر کے پانچ افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اس اور ایسے دیگر واقعات کے بعد دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیمیں بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کو جرمنی میں پناہ دینے پر وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

جرمنی میں لاکھوں تارکین وطن کی آمد کے بعد ان پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے صوبائی، وفاقی اور مقامی حکومتوں کے مابین طویل عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد رواں مہینے ہی ان اخراجات کی منصفانہ تقسیم کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ ’مہاجرین کے سماجی انضمام کے پیکج‘ کے تحت وفاقی حکومت ملک کے ہر صوبے کو سالانہ دو بلین یورو فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں تارکین وطن کو رہائش گاہوں کی فراہمی کے لیے بھی صوبائی حکومتوں کو سالانہ ایک بلین یورو دیے جائیں گے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

ویڈیو دیکھیے 03:23

مہاجر خاندان افغان، مسئلہ مشرقی، مسئلہ مغرب میں

DW.COM

Audios and videos on the topic