1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’تارکین وطن کو جزیروں پر رکھا جانا چاہیے‘

آسٹریا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو براہ راست یورپ میں داخلے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں جزیروں تک محدود کر دینا چاہیے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ویانا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق آسٹرین وزیر خارجہ سباستیان کُرس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ یورپ کو تارکین وطن کی آمد روکنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ کُرس کا کہنا تھا کہ مہاجرین اور تارکین وطن کو براہ راست یورپ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں جزیروں تک محدود کر دیا جانا چاہیے۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

آسٹریلیا نے سمندر عبور کر کے آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں نہایت سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ پالیسی کے تحت کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو براہ راست آسٹریلیا آنے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں نارُو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر پر بنائے گئے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی طور پر مہاجر تسلیم کیے جانے والے افراد کو بھی آسٹریلیا میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں بھی انہی کیمپوں میں رکھا جاتا ہے اور اس دوران ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس تناظر میں آسٹرین وزیر خارجہ کُرس کا کہنا تھا، ’’آسٹریلیا جیسا طریقہ کار یورپ میں مکمل طور پر تو اختیار نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کے اصول ضرور اپنائے جا سکتے ہیں۔‘‘ سباستیان کُرس نے یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والے معاہدے کی افادیت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

ویڈیو دیکھیے 01:11

بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے خوفناک مناظر

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا میں بھی ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا اور نیو یارک کا رخ کرنے والے پناہ کے متلاشی افراد کو جزیرہ ایلیس پر رکھا جاتا تھا۔

کُرس کے مطابق یورپی یونین کو ایسا قانون بنانا چاہیے جس کے مطابق غیر قانونی طور پر یونین کی حدود میں داخل ہونے والے افراد کے لیے یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا حق ختم کر دیا جائے۔

آسٹریا میں گزشتہ برس نوے ہزار کے قریب تارکین وطن کو خوش آمدید کہا گیا تھا تاہم بعد میں ویانا نے پناہ گزینوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف قوانین میں سختی کر دی بلکہ بلقان کی ریاستوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے اپنی ملکی سرحدیں بھی بند کرنا شروع کر دی تھیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے آغاز سے لے کر اب تک دو لاکھ سے زائد پناہ گزین یورپ پہنچ چکے ہیں۔ اس برس زیادہ تر تارکین وطن بحیرہ ایجیئن کے راستوں سے یونانی جزیروں کا رخ کرنے کے بجائے بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے اٹلی کا رخ کر رہے ہیں۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

DW.COM

Audios and videos on the topic