1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تارکین وطن سے متعلق جرمن چانسلر کا سخت موقف

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مائنز میں اپنی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU کے عہدیداروں سے خطاب میں کہا ہے کہ غیر ملکی تارکین وطن کے جرمن معاشرے میں بہتر انضمام کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

default

انگیلا میرکل کے مطابق جرمنی میں رہائش پذیر ایسے تمام افراد، جو مختلف ممالک سے آ کر یہاں آباد ہوئے ہیں، انہیں ہر حال میں نہ صرف جرمن زبان سیکھنی چاہئے بلکہ ہر جرمن قانون کی بھی مکمل پاسداری کرنی چاہئے۔

Türkisches Mädchen in München

میرکل کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو ملکی معاشرتی دھارے میں مکمل طور پر شامل ہونا چاہئے

مبصرین کے خیال میں انگیلا میرکل، جن کی مقبولیت میں گزشتہ برس انتخابات میں فتح کے بعد مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، کے اس بیان کا مقصد دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU کے بعض قدامت پسند رہنما میرکل پر عموماﹰ یہ الزامات عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی قدامت پسندانہ حیثیت کم کر رہی ہیں۔

میرکل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب چند ہفتے قبل ملک کے مرکزی بینک کے ایک سابق سینیئر اہلکار تھیلو زاراسِن کی تصنیف کردہ ایک کتاب میں جرمنی میں مقیم تارکین وطن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Thilo Sarrazin Bundesbank Abschied Integration Rassismus

جرمنی کے مرکزی بینک کے سابق سینیئر اہلکار تھیلو زاراسِن

چند ہی ہفتوں میں بے شمار جلدیں فروخت ہونے اور اس موضوع کے زباں زد عام ہو جانے پر جرمنی میں ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے۔ زاراسِن نے تارکین وطن کے بارے میں کہا تھا کہ وہ زیادہ تر حکومت پر بوجھ بنتے ہیں اور ان کی ذہانت کا معیار جرمن شہریوں کے مقابلے میں کم ہے۔

میرکل نے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے بیانات سے جرمنی میں تارکین وطن کے بہتر انضمام کے لئے کی جانے والی کوششوں کو دھچکہ پہنچا ہے۔ تاہم سخت الفاظ میں کی جانے والی اس مذمت پر بعض قدامت پسند رہنماؤں سمیت چند حلقوں کو خاصے تحفظات تھے۔

میرکل نے مغربی جرمن شہر مائنز میں اپنی پارٹی کے عہدیداروں سے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا: ’’جو بھی جرمنی میں رہنے کا خواہشمند ہے، اسے ہمارے قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ اسے ہماری زبان سیکھنا ہو گی اور ہماری معاشرتی اقدار سمیت آئین کی ایک ایک شق کو قبول کرنا ہو گا۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس