1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکین وطن اب بچوں کی کتابوں میں بھی

یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران سے متعلق اخبارات تو مسلسل لکھتے ہی رہے ہیں، مگر اب تارکین وطن کی دل دوز کہانیاں بچوں کی کتابوں میں بھی شامل کر دی گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بچوں کی کتابوں میں تارکین وطن کی کہانیوں کو شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ بچوں کو معلوم ہو کہ جس دنیا میں وہ رہتے ہیں، وہ کتنی ڈرامائی ہے۔

تارکین وطن کی لرزہ خیز تصاویر، لاشیں اگلتے سمندر اور لاشیں ڈھوتے تابوت ٹی وی پر دکھائے جانے والے عمومی مناظر بن چکے ہیں اور حکام کے مطابق اگلی نسل، والدین اور اساتذہ کو یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ تارکین وطن کس کس طرح یورپ پہنچ رہے ہیں اور ان کی مشکلات کس قسم کی ہیں۔

بلونگا چلڈرنز بک فیئر میں اس بار اس موضوع پر مختلف مصنفین اور مصوروں کے کام کو یورپ کے اس بہت بڑے کتابی میلے میں پیش کیا گیا ہے۔

بچوں کے لیے لکھنے والے مصنف انتونیو فریرا نے اپنی نئی کتاب ’کاسا لامپے ڈوسا‘ میں مہاجرین کے بحران سے متاثرہ اطالوی جزیرے کی کہانی تحریر کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں فریرا نے کہا، ’’مشرق سے جڑا ایک لفظ ہے آبراکاڈابرا، جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ بچوں کے لیے جادو کے کھیل کے لیے ایجاد کیا گیا، مگر اس کا حقیقی مطلب ہے، میں نے کہہ کر تخلیق کر دیا۔‘‘

USA | Proteste vor dem Trump-Building in New York gegen Trumps Refugee Ban (REUTERS/L. Jackson)

اس کا مقصد بچوں کو بدلتی دنیا سے روشناس کرانا ہے

ان کا مزید کہنا ہے، ’’میرے خیال میں ایک لکھاری کے لیے اس کا مطلب ہے کہ جو نہیں ہے، اسے تخلیق کیا جائے، یعنی اعتبار یا غیرملکیوں کو خوش آمدید کہنے کی خواہش۔ اور یہ ایک کہانی اچھے انداز میں بیان کرنے کے ذریعے ممکن ہے۔‘‘

فریرا کی کتاب میں ایک تیرہ سالہ بچے کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو ایک جزیرے پر رہنے والوں کی زندگی دیکھتا ہے، جہاں سمندر کی لہریں ہر روز انسانیت کو نگل اور اگل رہی ہوتی ہیں۔

اس کتاب کے علاوہ بھی مہاجرین ہی کے موضوع پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک صحافی ایما جین کِربی کی کتاب بھی شامل کی گئی ہے، جس میں تمام ہی عمر کے افراد کے لیے تارکین وطن کی مختلف کہانیاں تحریر کی گئی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ تارکین وطن کے موضوعات پر بچوں کے لیے اتنی ساری کتابیں سامنے آ رہی ہیں اور مستقبل میں اس رجحان میں مزید اضافہ ممکن ہے۔