1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تارکين وطن کی کشتيوں پر فائرنگ کی جائے، ڈينش سياستدان

ڈنمارک کے ايک رکن پارليمان نے کہا ہے کہ يورپ تک پہنچنے والی پناہ گزينوں کی کشتيوں پر فائرنگ کر کے انہيں روکا جانا چاہيے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب يہ نہ تھا کہ انسانوں کے خلاف ہتھيار استعمال کيے جائيں۔

غير قانونی طريقے سے يورپی يونين کی حدود ميں داخل ہونے سے روکنے کے ليے تارکين وطن کی کشتيوں پر سکيورٹی فورسز کو فائرنگ کرنی چاہيے۔ يہ تجويز يورپی رياست ڈنمارک کی برسر اقتدار جماعت کی اتحادی ’ڈينش پيپلز پارٹی‘ سے تعلق رکھنے والے رکن پارليمان کينتھ برتھ نے قومی سطح کے ايک نشرياتی ادارے DK4 پر منگل کے روز اپنے ايک انٹرويو کے دوران پيش کی۔

مہاجرين کی مخالف اس سياسی جماعت کے يورپی يونين کے ليے ترجمان کينتھ برتھ نے کہا، ’’اس سلسلے ميں واحد کارآمد قدم يہ ہو گا کہ کشتيوں کو داخلے سے قبل مطلع کیا جائے کہ وہ اس سرحد کو عبور نہيں کر سکتيں اور ايسا کرنے کے صورت ميں ان کے خلاف فائرنگ کی جا سکتی ہے يا انہيں واپس بھيجا جا سکتا ہے۔‘‘ بعد ازاں سماجی رابطوں کی ويب سائٹ فيس بک پر اپنی ايک تحرير ميں انہوں نے اپنے موقف ميں نرمی کی اور وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا مطلب يہ نہيں تھا کہ لوگوں پر فائرنگ کی جائے بلکہ وہ يہ کہنا چاہتے تھے کہ نيٹو کے بحری جہاز انتباہ کے ليے ہوائی فائر کر سکتے ہيں۔

’ڈينش پيپلز پارٹی‘ کے ترجمان سورن سونڈرگارڈ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا ہے کہ مہاجرين يا پناہ گزينوں کے خلاف ہتھياروں کا استعمال ان کی پارٹی کا مطالبہ ہر گز نہيں۔ اس پارٹی کو گزشتہ برس منعقدہ عام انتخابات ميں اکيس فيصد ووٹ حاصل ہوئے تھے، جس حساب سے يہ ملکی پارليمان ميں دوسری سب سے بڑی سياسی جماعت ہے۔

گزشتہ برس ايک ملين سے زائد تارکين وطن کی يورپ آمد کے تناظر ميں ڈنمارک نے اپنے ہاں اميگريشن کی سخت پاليسياں متعارف کروا رکھی ہيں۔