1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تاجکستان میں اسلام پسندوں کے ساتھ جھڑپیں، سترہ ہلاک

وسطی ایشیا کی سیکولر ریاست تاجکستان میں حکومتی سکیورٹی فورسز اور اسلام پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اِن ہلاک شدگان میں آٹھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

تاجک سکیورٹی حکام نے اِن جھڑپوں کی ذمہ داری سابق نائب وزیر دفاع عبدالحلیم نذرزودا پر عائد کی ہے۔ تاجک پولیس کے مطابق نو افراد سکیورٹی فورسز کے ساتھ دو مختلف جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ اِن جھڑپوں کے تناظر میں تاجک دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کو بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی سفارت خانے نے متنبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے پرتشدد واقعات کا اعادہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ملازمین کو محفوظ مقام پر رہنے کی تلقین کے علاوہ بچوں کو اسکول و کالجز روانہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دہشت گرد گروپ کو سابق نائب وزیر دفاع عبدالحلیم نذرزودا کی رہنمائی حاصل ہے۔

واقعات کے مطابق ایک مسلح گروپ نے دارالحکومت دوشنبہ کے نواح میں گشت پر مامور پولیس فورس پر حملہ کر کے چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ دوسرے چار پولیس اہلکار تاجک دارالحکومت کی ایک اور نواحی بستی وحدت میں ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق وحدت میں ہونے والی جھڑپ میں نو حملہ آوروں کو مار دیا گیا اور چھ دوسرے عسکریت پسند گرفتار بھی کر لیے گئے۔

Wahlen in Tadschikistan 2015 Rahmon

اسلامک رینائساں پارٹی کے خاتمے کے بعد اب تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کو پارلیمنٹ میں کسی اپوزیشن کا سامنا نہیں رہا۔

کل جمعے ہی کے روز حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نائب وزیر دفاع عبدالحلیم نذرزودا کو اُن کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعلان میں بتایا گیا کہ نائب وزیر دفاع کو اُن کے جرائم کی روشنی میں حکومتی عہدے سے برخواست کیا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عبدالحلیم نذرزودا نے سن 1992 سے لے کر سن 1997 تک لڑی جانے والی خانہ جنگی میں یونائٹڈ تاجک اپوزیشن کا ساتھ دیا تھا۔ تاجک حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ عبدالحلیم نذرزودا کالعدم قرار دی گئی اعتدال پسند سیاسی جماعت اسلامک رینائساں پارٹی کے رکن بھی ہیں۔

اسلامک رینائساں پارٹی کو گزشتہ ہفتے غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ اِس سیاسی پارٹی کے صدر دفتر کو عدالتی حکم پر سربمہر کر دیا گیا ہے۔ اسلامک رینائساں پارٹی واحد اسلامی نظریات کی حامل سیاسی جماعت ہے جو سابقہ سوویت یونین جمہوریہ میں ریجسٹر کی گئی تھی۔ اِس سیاسی جماعت کے خاتمے کے بعد اب تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کو پارلیمنٹ میں کسی اپوزیشن کا سامنا نہیں رہا۔ حکومت نے گزشتہ دنوں میں اِس پارٹی پر الزام لگایا تھا کہ اِس نے شام و عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا جھنڈا لہرانےکی درخواست کا مثبت جواب دیا تھا۔ تاجک حکومت کے مطابق کم از کم چھ سو تاجک باشندوں نے اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

انٹرنیٹ یوزرز نے بتایا ہے کہ انہیں فیس بُک، یُو ٹیوب اور روسی سوشل میڈیا اوڈنوکلاسنیکی کی بندش کا سامنا ہے۔