1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تابکار پانی سمندر میں بہنے سے فوری روکا جائے، جاپانی حکومت

جاپانی حکومت نے فوکوشیما جوہری پلانٹ چلانے والے ادارے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کو خبردار کیا ہے کہ اس متاثرہ پلانٹ کے تابکاری سے آلودہ پانی کو سمندر میں بہنے سے روکنے کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

default

جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوکیو ایڈانو نے آج پیر چار اپریل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں تابکار پانی کے سمندر میں بہاؤ پر فوری طور پر قابو پانا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے ہم نے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی سے فوری اور تیز تر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔" انہوں نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا ہے کہ رسنے والے تابکار پانی کے سمندر پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری طرف ہنگامی حالات سے دوچار اس جوہری پاور پلانٹ پر مصروف عمل انجینئرز نے سمندر میں تابکار پانی کے بہاؤ کا مخرج معلوم کرنے کے لیے رنگدار نمکیات کا استعمال کیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ اس جوہری بجلی گھر کےکنکریٹ ٹینک میں ممکنہ شگاف کی وجہ سے جوہری تابکار اثرات والا پانی رِس کر سمندری پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سمندری پانی میں تابکاری عام حالات کی نسبت 10 ہزار گنا سے بھی زائد ہو چکی ہے۔

NO FLASH Japan Erdbeben Tsunami Atomreaktor

جاپانی حکومت کے مطابق فوکوشیما جوہری پاور پلانٹ کے چھ میں سے تین ری ایکٹرز کی صورتحال اب قابو میں ہے

ادھر ٹوکیو حکومت کے ایک عہدیدار گوشی ہوسونو نے اتوار کے روز کہا کہ زلزلے اور سونامی سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ کو درپیش بحران پر مکمل قابو پانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ ملکی ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ بحران سے بچا تو نہیں جا سکا تاہم اب اس پر کسی حد تک قابو ضرور پایا جا چکا ہے۔

جاپانی حکومت کے مطابق فوکوشیما جوہری پاور پلانٹ کے چھ میں سے تین ری ایکٹرز کی صورتحال اب قابو میں ہے۔ مزید یہ کہ اس پاور پلانٹ میں نصب ری ایکٹرز میں سے کم از کم چار کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، تاہم اس میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

11 مارچ کو آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں اب تک تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی کی طرف سے اتوار کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 12,087 ہوچکی ہے جبکہ 15,552 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی