1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تابکاری چین اور جنوبی کوریا جا پہنچی

جاپان میں زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ سے ا ٹھنے والی تابکاری چین کے مزید علاقوں سمیت جنوبی کوریا میں بھی پہنچ گئی ہے۔ تاہم ان ممالک کے حکام نے کہا ہے کہ اس سے وہاں انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

default

بیجنگ حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کے زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ فوکوشیما ڈائچی سے اٹھنے والی تابکاری چین کے مزید علاقوں میں پائی گئی ہے۔ وہاں حکام نے پہلے ہی شمال مشرقی صوبے Heilongjiang میں تابکاری کی کم تر سطح کی تصدیق کی تھی۔

منگل کو وزارت برائے ماحولیاتی تحفظ نے ایک بیان میں کہا کہ شنگھائی سمیت جنوب مشرقی علاقوں میں بھی تابکاری پائی گئی ہے۔ اس وزارت کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تابکاری کے اثرات کا پتہ ہوا کے لیبارٹری ٹیسٹ سے لگایا گیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ تابکاری کی سطح کم تر ہے اور اس سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

جنوبی کوریا میں جوہری تحفظ سے متعلق ادارے KINS کے مطابق دارالحکومت سیول میں تابکاری کی معمولی سطح کا پتہ لگایا گیا ہے۔ اس جوہری ادارے نے سیول میں 12 مقامات پر ہوا کا تجزیاتی ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ اعلان کیا ہے۔ تاہم اس ادارے کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس سے انسانی صحت کو خطرہ نہیں ہے۔

NO FLASH Naoto Kan Japan Erdbeben Atomkrise

جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان

چین اور جنوبی کوریا کی فضا میں ریڈیو ایکٹو آئیوڈین کی ریڈی ایشن کی تصدیق کی گئی ہے۔اُدھر جاپان میں زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ڈائچی پاور پلانٹ کی عمارت کے باہر پانی میں ریڈیو ایکٹو کی بلند سطح پائی گئی ہے۔ تابکاری کا یہ اخراج ری ایکٹر نمبر ٹو سے ملحقہ ایک سرنگ میں پایا گیا ہے۔

اس جوہری پلانٹ کے ارد گرد زمین میں بھی ریڈیو ایکٹو دھات پلوٹونیم پائی گئی ہے۔ اس پلانٹ کے نگران ادارے ٹوکیو الیکٹریکل پاور کمپنی کا کہنا ہے کہ پلانٹ کے گرد پانچ مختلف مقامات پر زمین کے ٹیسٹ کیے گئے، جس کے بعد وہاں پلوٹونیم کے پائے جانے کی تصدیق ہو سکی ہے۔

دوسری جانب جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان نےکہا ہے کہ جوہری بحران کے تناظر میں ان کی حکومت انتہائی الرٹ ہے۔ انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں بجٹ کمیٹی کو بتایا کہ صورت حال کا پیشگی اندازہ لگانا بدستور مشکل بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان حالات کا سامنا انتہائی مستعدی سے کرے گی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس