1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تابکاری سے متاثرہ علاقوں میں خوراک پر پابندیاں

جاپان نے زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ سے ریڈی ایشن کے اخراج کے تناظر میں قریبی علاقوں میں اشیائے خوراک پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آفٹرشاکس بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

default

امریکہ نے بھی جاپان سے مخصوص اشیائے خوردونوش کی درآمد پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ اُدھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے (IAEA) کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ جاپان کے جوہری پاور پلانٹ سے ریڈی ایشن کا اخراج تاحال جاری ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوکوشیما ڈائچی پلانٹ پر ریڈی ایشن کا اخراج کہاں سے ہو رہا ہے، یہ واضح نہیں ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے جاپان حکام کی جانب سے اس بحران سے متعلق معلومات کے ناکافی ہونے پر تشویش بھی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب اس جوہری پاور پلانٹ پر متاثرہ ری ایکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

بدھ کی صبح جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں زلزلے کے سلسلہ وار آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ان آفٹر شاکس سے فوکو شیما ڈائچی پلانٹ پر کوئی نیا نقصان نہیں ہوا۔ تاہم ریڈی ایشن کی سطح بڑھنے پر اس پاور پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر دو پر کام روکے جانے کی بھی اطلاع ہے۔

Japan Erdbeben Tsunami

ہلاک اور لاپتہ افراد کی تعداد چوبیس ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے

اُدھر جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی نے گیارہ مارچ کے زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں نوہزار 408 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے اور لاپتہ افراد کی تعداد چوبیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض متاثرہ علاقوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے مزید نفری تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

جاپان کے روزنامہ نکئی نے بدھ کی اشاعت میں بتایا ہے کہ حکومت نے رواں ماہ کی قدرتی آفت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ ایک سو پچاسی ارب ڈالر سے تین سو آٹھ ارب ڈالر تک لگایا ہے۔

اس زلزلے اور سونامی کو جاپان کی اٹھاسی سالہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 1923ء میں وہاں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ بیالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس