1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تائیوان کے لئے امریکی اسلحہ پر چین سخت ناراض

چین نے ایک مرتبہ پھر واشنگٹن حکومت کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے امریکی منصوبے سے چین،امریکہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چین کی خارجہ اور دفاعی وزارتوں نے اس منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔

default

Absturz eines Hubschraubers der US-Army in Italien

اطالوی پولیس افسران حادثے کا شکار ہونے والے ایک امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا معائنہ کرتے ہوئے، فائل فوٹو

امریکہ کی طرف سے تائیوان کو جدید اسلحہ فروخت کرنے کا منصوبہ بالکل حتمی مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق امریکہ تائیوان کو تقریباً ساڑھے چھہ ارب ڈالر کی قیمت کے ہتھیار بیچے گا، جن میں ’بلیک ہاک‘ ہیلی کاپٹرز، میزائل دفاعی نظام اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان جیانگ یو نے آرمز سیلز کے امریکی منصوبے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا:’’تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے امریکی منصوبے پر چین سخت برہم ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘‘

اس منصوبے سے دنیا کی بڑی طاقتوں، چین اور امریکہ، کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ چین نے سخت رد عمل کے طور پر امریکہ کے ساتھ مجوزہ فوجی تبادلہ معطل کر دیا ہے اور ساتھ ہی تائیوان کے ساتھ اسلحہ کی سیلز میں ملوث امریکی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

Jiang Yu China Außenministerium

چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان جیانگ یو

چینی وزارت خارجہ کی طرح وزارت دفاع نے بھی امریکی منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ چینی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا:’’تائیوان کا مسئلہ چین کی خودمختاری اور سالمیت کے ساتھ جڑا ہے۔ امریکہ کی طرف سے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے سے چین کے مفادات کو خطرات لاحق ہیں۔‘‘

دریں اثناء نائب چینی وزیر خارجہ نے چین میں امریکی سفیرجان ہنٹس مین سے کہا کہ تائیوان کے ساتھ اِس مجوزہ آرمز ڈیل کے نتیجے میں بیجنگ اور واشنگٹن کے تعلقات بہت زیادہ کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی خاتون ترجمان لارا ٹشلر نے اسلحہ کی فروخت کے منصوبے کو صحیح قرار دیا:’’اس معاہدے کا مقصد خطّے میں استحکام اور توازن کو یقینی بنانا ہے۔‘‘سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اور ترجمان فلپ کراوٴلی نے کہا:’’اس منصوبے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ تائیوان کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ اس معاہدے سے چین،امریکہ تعلقات متاثر ہونے نہیں چاہییں۔‘‘

Obama / USA / Rede an die Nation

امریکی صدر باراک اوباما اپنا پہلاسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرتے ہوئے

ابھی چند ہی روز پہلے امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے پہلے ’سٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی اور معیشت سمیت دیگر اہم شعبوں میں چین کی ترقی کا ذکر کیا تھا۔ اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جرمنی کی جگہ چین دنیا میں سب سے زیادہ مالیت کی اَشیاء برآمد کرنے والے ملک کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ چین کا تازہ اعزاز یہ ہے کہ وہ جاپان کو پیچھے دھکیل کر دُنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سن 2030ء تک چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی