1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تائیوان کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کو جدید بنانے پر چینی اعتراض

بدھ کو امریکا نے تائیوان کو نئے ایف سولہ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی بجائے اس کے موجودہ بیڑےکو ہی 5.85بلین ڈالرز کی لاگت سے جدید بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا جس پر چین نے سخت اعتراض کیا ہے۔

default

تائیوان اور امریکا کے حکام کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں کو جدید بنانے سے تائیوان کا چین کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کے خلاف دفاع مضبوط ہو گا۔ تائیوان کے وزیر دفاع کاؤ ہُوا چُو نے تائیپی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’طیاروں میں نئے آلات کی تنصیب سے فضائیہ کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

حکام نے مزید کہا کہ تائیوان کے  145 ایف سولہ اے اور بی طیاروں میں نئے پرزے اور آلات نصب کیے جائیں گے اور انہیں جدید ہتھیاروں اور ریڈار سے لیس کیا جائے گا جس کے ذریعے وہ چین کے عام ریڈار کی زد میں نہ آنے والے جہازوں کا بھی کھوج لگا لیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے اس پیکج کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تائیوان کو زمانہ امن اور بحران کے دوران اپنی فضائی حدود کے تحفظ کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

China Militärparade

تائیوان اور امریکا کے حکام کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں کو جدید بنانے سے تائیوان کا چین کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کے خلاف دفاع مضبوط ہو گا

انہوں نے کہا، ’’ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تائیوان کو ہمارے اسلحے کی فروخت سے آبنائے تائیوان میں امن و استحکام حاصل ہوگا۔‘‘

اُدھر چین نے اس اقدام پر سخت احتجاج کرتے ہوئے بیجنگ میں تعینات نئے امریکی سفیر کو طلب کیا اور واشنگٹن سے احتجاج کیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق امریکہ کے اس غلط فیصلے سے نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے فوجی اور دفاعی شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تبادلے اور تعاون بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

جنوری 2010ء میں صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے تائیوان کے لیے ہیلی کاپٹروں اور پیٹریاٹ میزائلوں سمیت 6.4 بلین ڈالر مالیت کے ایک اسلحہ پیکج کی منظوری کے بعد بھی چین نے امریکہ کے ساتھ فوجی تبادلے منقطع کر دیے تھے۔

امریکی حکومت نے تائیوان کی 66 ایف سولہ سی ڈی لڑاکا طیارے خریدنے کی درخواست پر کئی ماہ تک خاموشی اختیار کیے رکھی تھی۔

اوباما انتظامیہ کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کرنے والوں میں ان کی مخالف ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ تائیوان کے موجودہ لڑاکا طیاروں کو جدید بنانے کی بجائے اسے نئے طیارے فروخت کرنے چاہیے تھے کیونکہ اس طرح امریکہ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے تھے۔

ریپبلکن سینیٹر جون کورنِن نے اوباما پر الزام عائد کیا کہ وہ 1979 کے Taiwan Relations Act کے تحت تائیوان کے دفاع کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جون کورنن کا اعتراض اس لیے تھا کہ تائیوان کو اسلحہ کی فروخت سے ان کی ریاست ٹیکساس کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو مالی فائدہ حا‌صل ہو سکتا تھا۔

USA Wahlen Iowa Vorwahlen Republikaner ehemaliger Gouverneur Mitt Romney

ریپبلکن صدارتی امیدوار مٹ رومنے نے کہا کہ اوباما نے امریکہ کی بہتر روزگار پیدا کرنے والی ملازمتوں کی قیمت پر چین کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

ریپبلکن صدارتی امیدوار مٹ رومنے نے کہا، ’’اوباما نے امریکہ کی بہتر روزگار پیدا کرنے والی ملازمتوں کی قیمت پر چین کے غیر معقول مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔‘‘

تاہم صدارتی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ مستقبل میں تائیوان کو نئے ایف سولہ سی ڈی طیاروں کی فروخت کا امکان مسترد نہیں کر رہا، تاہم فی الوقت موجودہ بیڑے کو جدید بنانا ہی بہتر انتخاب تھا۔

ہوابازی کی صنعت کے ایک ماہر اور Teal Group Corp. کے نائب صدر رچرڈ ابو لافیا نے کہا کہ تائیوان کے ایف سولہ اے اور بی لڑاکا طیارے پہلے ہی کافی جدید ہیں اور ان میں سی اور ڈی اقسام کی بہت سے خصوصیات موجود ہیں۔ تاہم ان کے بقول انہیں جدید بنانے کے فیصلے سے تائیوان کی عددی قوت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو چین جیسے بڑے ملک کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

طیاروں کو جدید بنانے کا کام 12 سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا اور اس میں تائیوان کے پائلٹوں کی ایریزونا کی Luke Air Force Base میں تربیت بھی شامل ہے۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے اور اسے امید ہے کہ ایک نہ ایک روز وہ اس سے آن ملے گا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM