1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبے پر امریکہ اور چین میں کشیدگی

چین کی سخت تنقید کے باوجود امریکہ نے تائیوان کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت کے اپنےمجوزہ منصوبے کا دفاع کیا ہے۔ امریکہ کے اس عسکری منصوبے کے نتیجے میں بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

default

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان لارا ٹشلر نے ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا مقصد بیجنگ اور تائے پے کے درمیان سلامتی اور استحکام کا فروغ ہے۔

قبل ازیں ہفتہ کو ہی اسی مسئلے کو بنیاد بناتے ہوئے چین نے امریکہ کے ساتھ اپنے عسکری تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا اور ہتھیار فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی بھی عائد کر دی۔ اس کے علاوہ بیجنگ حکام نے واشنگٹن کے ساتھ متعدد شعبوں میں تعاون کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان Huang Xueping کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیجنگ کے ان اقدامات سے چین امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کی ذمہ داری تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے منصوبے پر عائد ہوتی ہے۔

اُدھر امریکی صدر باراک اوباما کے مشیر برائے سلامتی امور جیمز جونز نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت بیجنگ کے ساتھ ایک شفاف طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا: ’’یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک وقفے وقفے سے کچھ اقدامات کریں گے، اور ان اقدامات سے ہر کوئی خوش نہیں ہوگا۔‘‘

چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ امریکی منصوبہ ایسے نتائج لے کر آئے گا، جو نہ تو بیجنگ حکومت چاہتی ہے اور نہ ہی واشنگٹن انتظامیہ۔

اُدھر تائیوان نے امریکی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر Ma Ying-jeou نے کہا ہے کہ امریکہ کےساتھ اس عسکری ڈیل سے تائے پے حکومت کا اعتماد بڑھے گا اور نتیجتاً چین کے ساتھ روابط بڑھانے میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

Taiwans Präsident Ma Ying-jeou

تائیوان کے صدر Ma Ying-jeou

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کو چھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے منصوبے کا اعلان جمعہ کو کیا تھا۔ پینٹاگون نے اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے کانگریس کو بھی آگاہ کر دیا ہے ، جس کی منظوری کے بعد ہی اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

ان ہتھیاروں میں ہیلی کاپٹر اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم بھی شامل ہیں، جن کی تائیوان کو فروخت کا وعدہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے کیا تھا۔ تاہم اس منصوبے میں F-16 طیاروں کی فروخت شامل نہیں ہے۔

چین تائیوان کو اپنا ایک باغی صوبہ قرار دیتا ہے، جو 1949ء میں اس سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ تاہم بیجنگ حکومت تائیوان کو اپنے زیرانتظام لانے کے لئے بارہا طاقت کے استعمال کا عندیہ دے چکی ہے۔

امریکہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے اور ایک معاہدے کے تحت تائے پے کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی اس کی ذمہ داری ہے۔

رپورٹ: ندیم گل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM