1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تائیوان میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج، ایک تبصرہ

تائیوان کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت، جمہوری پارٹی برائے پیش رفت کو واضح طور پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جمہوری انتخابی عمل میں اپوزیشن کی جماعت کو من تانگ کو 72 فیصدووٹ ملے۔ ڈوئچے ویلے کی چینی سروس کے ماتھیاس فن ہائین کا تبصرہ :

اپوزیشن کارکن اپنی پارٹی کی فتح پر خوشیاں مناتے ہوئے

اپوزیشن کارکن اپنی پارٹی کی فتح پر خوشیاں مناتے ہوئے

تائیوان کے رائے دہندگان نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ انہوں نے بڑے واضح انداز میں برسراقتدار جماعت، ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی DPP کو مسترد کر دیا ہے۔ تائیوان کے صدر Chen Shui-Bian نے ان انتخابات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر رکھی تھیں ۔ انہیں امید تھی کہ پارلیمان کی 113 نشستوں میں سے ان کی جماعت DPP کم از کم 50 نشستیں جیت لے گی ۔ لیکن وہ بمشکل 27 سیٹیں ہی حاصل کر پائی۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے ابھی سے ہی مارچ کے صدارتی انتخابات کے لئے واضح اشارہ دے دیا ہے اور صدر Chen نے یہ اشارہ سمجھ بھی لیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے اپنی جماعت کی صدارت پارٹی کے صدارتی امیدوار Frank Hsieh کے حوالے کر دی ہے۔

ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی 80 کے عشرے میں واحدحکمران جماعت Kuomintang کے مقابلے میں احتجاجی تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی۔ Chen Shui-Bian نے DPP کے سربراہ کے طور پر اپنی جماعت کو مسلسل حصول آزادی کی راہ پر ڈالے رکھا اور اس طرح وہ چین کو غصہ دلاتے رہے۔ 2005 کی چینی نیشنل پیپلز کانگریس نے بیجنگ میں علیحدگی مخالف قانون پاس کر کے چین کی پوزیشن واضح کردی تھی جس کے تحت یہ قرار پایا کہ اگر تائیوان نے آزادی کا اعلان کیا توبیجنگ اسے زبردستی دوبارہ اپنے ساتھ ملا لے گا۔

چونکہ تائیوان کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لئے خطرہ ہے کہ تائیوان کے جزیرے کا تنازعہ کہیں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی محاذ آرائی کا سبب نہ بن جائے۔ چینی حکومت نے Kuomintang پارٹی کی جیت پر محتاط انداز میں خوشی کا اظہار کیا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ نے ماہرین کے جائزوں کے حوالے سے بتایاہے کہ تائیوان کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج آئندہ کے دو طرفہ تعلقات میں ممکنہ بہتری کا اشارہ دیتے ہیں۔

تائیوان میں حالیہ پارلیمانی الیکشن جیتنے والی اپوزیشن جماعت Kuomintang چین کے بارے میں دوستانہ روئیہ رکھتی ہے۔ چین نے گذشتہ انتخابات کے دوران اور ان کے نتائج سے اپنا یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ اسے تائیوان میں عوامی رائے دہی سے پہلے کی انتخابی مہم میں زور شور سے کوئی مداخلت نہیں کرناچاہیے۔

Kuomintang پارٹی کو جسے پارلیمان میں پہلے برائے نام اکثریت حاصل تھی ، اب قریب دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ کیا رائے دہندگان Kuomintang کی چار عشروں تک جاری رہنے والی سخت گیر حکومت کا دور بھول گئے ہیں ؟ یہ تو تائیوان میں مارچ کے مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج ہی بہتر طورپر واضح کرسکیں گے۔