1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تائیوان میں تحریک آزادی کچل دیں گے، چینی صدر کا انتباہ

چینی صدر نے خبردار کیا ہے کہ تائیوان کی چین سے الگ ہونے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ دوسری طرف تائیوان نے چینی صدر کے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ بیجنگ ون چائنہ پالیسی کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ اٹھارہ اکتوبر کے روز حکمران کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ایک اجلاس سے اپنےخطاب میں واضح کیا کہ چین پراعتماد ہے کہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے تائیوان کی آزادی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں بیجنگ حکومت کی اہلیت پر کوئی شک نہیں کیا جانا چاہیے۔

اقتصادی مفادات چین اور تائیوان کو قریب لا سکتے ہیں

’آزاد ہانگ کانگ اور تائیوان بطور الگ وطن قابلِ قبول نہیں‘

چین سے تنازعے میں فوجی کارروائی کوئی حل نہیں، تائیوانی صدر

صدر شی جن پنگ کے بقول، ’’ہم کسی فرد، ادارے یا کسی بھی سیاسی پارٹی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ چین کے کسی بھی علاقے کو چین سے الگ کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تائیوان کو چین سے الگ کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

چینی صدر کے اس بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تائیوان کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ریاست کے تئیس ملین شہریوں کا حق ہے۔ ایک حکومتی بیان میں چینی صدر کے اس بیان کو ’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین اپنی ون چائنہ پالیسی کے لیے اپنے ہی لوگوں کا اعتماد بھی نہیں جیت سکتا۔

Taiwan Tsai Ing-wen (picture alliance/Presidential Office Handout)

گزشتہ برس تائیوان کے صدارتی انتخابات میں سائی انگ وین کی کامیابی کے بعد سے تائیوان اور چین کے مابین ایک تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے

گزشتہ برس تائیوان کے صدارتی انتخابات میں سائی انگ وین کی کامیابی کے بعد سے تائیوان اور چین کے مابین ایک تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ سائی انگ وین کی طرف سے ون چائنہ پالیسی کی توثیق نہ کرنے پر بیجنگ نے ان کی حکومت سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ سن انیس سو انچاس میں خانہ جنگی کے نتیجے میں تائیوان نے چین سے علیحدگی اختیار کر لی تھی تاہم اپنی باقاعدہ آزادی کا اعلان نہیں کیا تھا۔

تائیوان کی اس خاتون رہنما نے چین کو اس وقت بھی ناراض کر دیا تھا، جب انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد کا پیغام ارسال کیا تھا۔ چین تائیوان کو، جس کی حکمرانی پر بیجنگ کو کوئی اختیار نہیں ہے، اپنا ایک باغی صوبہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تائیوان کو چین کے کنٹرول میں لایا جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی فوجی کارروائی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

بدھ کے دن حکمران کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے خطاب میں شی جن پنگ نے دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کی۔ تین گھنٹے طویل اپنے اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی کو ملکی ٹیکنالوجی کی صنعت کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کی خاطر مختلف ریاستی اداروں کے مابین زیادہ بہتر رابطہ کاری ہونی چاہیے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کا یہ اجلاس ہر پانچ برس بعد منعقد ہوتا ہے، جس میں آئندہ ملکی سربراہ کے چناؤ کے علاوہ قومی حکمت عملی بھی ترتیب دی جاتی ہے۔ سن دو ہزار بارہ میں پارٹی سربراہ بننے والے شی جن پنگ متوقع طور پر دوبارہ اس عہدے کے لیے منتخب کر لیے جائیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات