1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بے ہوشی کی دوا بیچتے ہیں، موت کے سوداگر نہیں‘

بھارت کی ایک دوا ساز کمپنی نے کہا ہے کہ امریکی جیل حکام کو اس اہم دوا کی ترسیل بند کر دی جائے گی، جسے سزائے موت کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

default

بھارتی دوا ساز کمپنی ’قائم فارما سیوٹیکل لمیٹڈ‘ کے مینیجنگ ڈائریکٹر نونیت ورما کا کہنا ہے کہ سوڈیم تھیوپینٹل کی پانچ سو شیشیاں دو امریکی ریاستوں کو برآمد کی گئیں تھیں۔

ہر شیشی میں ایک گرام دوا تھی۔ یہ برآمدات نیبراسکا کو گزشتہ برس دسمبر اور جنوبی ڈاکوٹا کو مارچ میں دی گئی تھیں۔ تاہم ورما نے کہا کہ ان کی کمپنی اس بات سے آگاہ نہیں تھی کہ یہ دوا سزائے موت کے عملدرآمد میں استعمال کی جانے والی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان ٹرانزیکشنز کے عمل میں شریک کمپنی کے ایک اہلکار کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس نے مبینہ طور پر معلومات پر پردہ ڈالے رکھا تھا۔

نونیت ورما نے کہا، ’مجھے اس بات کا سرے سے پتہ نہیں تھا کہ یہ دوا جان لیوا ٹیکے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ ہمارا کاروبار اس دوا کو بے ہوشی کے مقاصد کے لیے فراہم کرنا ہے، ہلاک کرنے کے لیے نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس دوا کے لیے آرڈر دینے والی کمپنیوں کو استعمال کا مقصد بیان کرنا ہو گا۔ بعد ازاں اس کمپنی کی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری

Usa-Flagge mit Regentropfen

سزائے موت کا قانون امریکہ کی ہر ریاست میں نافذ نہیں

کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ معاملے کی نزاکت کے باعث کیا گیا۔ بیان میں فیصلے کی وجہ ہندو مت کی اخلاقیات کو بھی قرار دیا گیا۔ اس دوا ساز ادارے نے یہ بھی کہا کہ وہ عدالتی عمل پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں یہ دوا ایک ہی ادارہ بنا رہا تھا، جس نے جنوری میں پیداوار بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے ان ریاستوں میں سزائے موت کے فیصلوں پر عملدرآمد میں مسائل پیدا ہوئے، جہاں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔

سزائے موت کی مخالفت کرنے والے انسانی حقوق کے برطانوی ادارے ریپریو نے قائم فارما سیوٹیکل کمپنی کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس