1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بے گھروں کا عالمی فٹ بال کپ

فرانس میں بے گھر افراد کے عالمی فٹ بال کپ مقابلوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان مقابلوں میں پانچ سو ایسے مرد و خواتین 21 تا 27 اگست تک پیرس میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں، جو بیرون ملک رہتے ہوئے بے گھر ہیں۔

default

بے گھروں کا عالمی فٹ بال کپ کے ماسٹر مائنڈ مَیل ینگ

اتوار کے دن کھیلے گئے امسالہ عالمی کپ کے افتتاحی میچ میں فیورٹ ٹیم پرتگال نے میزبان ٹیم فرانس کو ہرا دیا۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد دراصل یورپی ممالک میں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو بے روزگار ہیں اور جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی گھر نہیں ہے۔ اس ورلڈ کپ کے منتظمین کا کہنا ہےکہ ماضی میں ان مقابلوں میں شرکت کے بعد متعدد ایسے بے گھر افراد اپنے لیے نوکریاں یا گھر حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کا آغاز 2003ء میں ہوا تھا۔ اس خصوصی فٹ بال ورلڈ کپ کے ماسٹر مائنڈ Mel Young کہتے ہیں کہ بے گھر افراد پر اس ورلڈ کپ کا بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ فرانس میں نویں عالمی کپ کے آغاز پر مَیل ینگ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا، ’جب سے یہ ورلڈ کپ شروع کیا گیا ہے، تب سے ایک لاکھ افراد اس میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد افراد نے یہ موقع ملنے پر اپنی زندگیاں بدل ڈالیں۔‘

مَیل ینگ کہتے ہیں کہ پیرس میں منعقد ہونے والا بے گھر افراد کا فٹ بال ورلڈ کپ برائے 2011ء بھی ایسے کئی افراد کو اپنی زندگی میں کچھ کر دکھانے کا ایک نیا موقع فراہم کرے گا، ’فرانس میں سکونت پذیر بے گھر غیر ملکیوں کے پاس یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ گمنامی کی زندگی سے باہر آ کر اپنے آبائی ممالک کے سچے سفیر ثابت ہوں‘۔

Homeless World Cup in Rio de Janeiro Flash-Galerie

ریو ڈی جینرو میں منعقد ہونے والے بے گھروں کے عالمی فٹ بال کپ کے دوران شائقین

پیریس میں جاری اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 64 ممالک کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ ان میں سولہ ٹیمیں خواتین کی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو ایک چھوٹے سے اسٹیڈیم میں سات سات منٹ کے دو ہاف کھیلتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے شرط یہ ہے کہ حصہ لینے کا خواہش مند کوئی بھی کھلاڑی یا تو پناہ کا متلاشی ہو یا پھر ان مقابلوں سے کم از کم ایک سال پہلے تک بے گھر رہا ہو۔

اتوار کے دن منعقد کی گئی اس ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ یہ مقابلے پیرس کے مشہور زمانہ آئفل ٹاور کے بالکل نواح میں منعقد کیے جا رہے ہیں، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ تماشائیوں اور غالباﹰ آئفل ٹاور کا رخ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہ انتہائی دلچسپ مقابلے دیکھے گی۔ اس ٹورنامنٹ کے منتظمین اس مرتبہ مجموعی طور پر کم ازکم پچاس ہزار شائقین کی آمد کی توقع کر ر ہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس