بے گناہ یا حملہ آور؟ | معاشرہ | DW | 09.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بے گناہ یا حملہ آور؟

فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور شادی قصیب کو ابھی حال ہی میں دو اسرائیلی شہریوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ان کا موقف ہے کہ قصاب ان پر چاقو سے حملہ کرنا چاہتا تھا۔ تاہم شادی قصاب کے اہل خانہ کا موقف کچھ اور ہے۔

ابھی کچھ دن قبل اکتیس سالہ شادی قصاب نے معمول کے مطابق اپنی ٹیکسی نکالی۔ غرب اردن کے اس شہری نے پہلے اپنے دو بڑے بچوں کو اسکول چھوڑا اور روزگار کی تلاش میں نکل پڑا۔ لیکن قبل از دوپہر ہی وہ ہلاک ہو چکا تھا۔ دو اسرائیلی عام شہریوں کے مطابق وہ چاقو کے ذریعے ان پر حملہ کرنا چاہتا تھا اور انہوں نے ذاتی دفاع میں شادی پر گولی چلا دی۔ اس واقعے کے پانچ روز بعد غرب اردن میں ہی شادی کے چھوٹے بھائی فادی نے ایک بس اسٹاپ پر دو اسرائیلیوں پر گاڑی چڑھا دی اور اسے بھی گولی مار دی گئی۔

یہ دو بھائی ان درجنوں فلسطینیوں میں شامل ہیں، جو ستمبر سے اب تک اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ یروشلم کا موقف ہے کہ یہ تمام افراد اسرائیلیوں پر حملے کرنا چاہتے تھے یا کر چکے تھے۔ تقریباً تین ماہ سے اسرائیلی اور فلسطینیوں کے مابین یہ تنازعہ جاری ہے۔ تقریباً روزانہ ہی عام فلسطینی ایسے حملے کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کم سن ہیں۔ ایک تو یہ ناتجربہ کار ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر کا کوئی سیاسی پس منظر بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح کے زیادہ تر حملے اچانک کیے جاتے ہیں اور وہ بھی کسی ہدف کا تعین کیے بغیر۔ اس تشدد کی وجہ سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدیں اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

اسی سال اسرائیل میں سخت موقف رکھنے والی حکومت کو دوبارہ سے منتخب کر لیا گیا ہے اور حکام غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد ممالک ان تعمیرات کی وجہ سے یروشلم حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کچھ اداروں کا خیال ہے کہ اسرائیل میں ’’ شُوٹ ٹو کِل ‘‘ کے احکامات بھی تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں۔ دوسری جانب حماس اور اسلامی جہاد جیسے شدت پسند گروپ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ لوگ مختلف کیمروں سے بنائی ہوئی ویڈیوز کو اسرائیل مخالف جذبات کو ابھارنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم ’بی ٹی سیلم‘ کے مطابق مختلف ویڈیوز اور عینی شاہدین سے باتیں کرنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم پانچ ایسے واقعے ہیں، جن میں فلسطینیوں کو ایسے وقت گولی ماری گئی ہے، جب وہ کسی قسم کا خطرہ نہیں تھے۔ ان میں سے چار، جن میں دو کم سن لڑکیاں بھی شامل ہیں، ہلاک ہوگئے جبکہ ایک شدید زخمی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق بائیس نومبر کو شادی قصیب کی ٹیکسی نے اچانک اپنا رخ تبدیل کیا۔ ’’وہ گاڑی سے باہر نکلا اور اس کے ہاتھ میں آٹھ انچ لمبا ایک چاقو تھا۔ وہ چاقو لیے قریب کھڑے ہوئے اسرائیلیوں کی جانب بھاگا اور اسی دوران اسے گولی مار دی گئی‘‘۔ شادی کی انتیس سالہ اہلیہ اثعب کا کہنا ہے’’ مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے شوہر کسی کو چاقو مار سکتے ہیں کیونکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ ہم بہت غریب ہیں اور ہمیں تین بچوں کی پرورش کرنا ہے‘‘۔