1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بے نظیر قتل کیس،  مشرف مفرور قرار، جائیداد کی ضبطگی کا حکم

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مفرور قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے ملکی فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

سن دو ہزار سات میں بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام سن دو ہزار تیرہ میں سابق جرنل پرویز مشرف پر عائد کیا گیا تھا۔ تاہم  تین برس قبل ان پر سے سفری پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد سے وہ دبئی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالت نے دو پولیس افسروں کو بے نظیر کی جائے قتل میں مداخلت کرنے کے جرم میں سترہ سترہ سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔

اس فیصلے پر بے نظیر کی بیٹی عاصفہ بھٹو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ دس برس بعد بھی ہمیں انصاف نہیں ملا۔ جرم میں ملوث لوگوں کو سزا سنا دی گئی ہے لیکن میری ماں کو قتل کرنے والے اب بھی آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔‘‘

بے نظیر کی بیٹی بختاور بھتو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ مشرف نے جائے قتل کو دھلوانے کا حکم دیا اور گاڑی کے دروازوں کو بند کروا دیا جس کی وجہ سے بے نظیر گاڑی سے باہر نہ آسکیں‘‘ 

سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے حوالے سے متضاد آراء نظر آ رہی ہیں۔ کئی افراد اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں تو بعض کی رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اُسوقت کی سربراہ اور سابق پاکستانی وزیر اعظم  بے نظیر بھٹو کو انصاف نہیں ملا۔

بےنظیر قتل کیس: مارک سیگل کا بیان جھوٹ کا پلندہ، پرویز مشرف

'بے نظیر کے قاتلوں تک پہنچنے میں کسی کو دلچسپی نہیں‘

عدالت نے پانچ ایسے افراد کو  بری  قرار دے دیا  ہے جن پر  طالبان  کے ساتھ مل کر مسلم دنیا کی پہلی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ پاکستان کی اس عالمی شہرت یافتہ لیڈر کی موت کے دس سال بعد سنایا گیا ہے۔   

DW.COM