1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بے نظیر بھٹو قتل کیس: پرویز مشرف اشتہاری ملزم

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے سابق صدر اور ملکی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بےنظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری ملزم قرار دیا ہے۔

default

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف

بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج رانا نثار کر رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی چھان بین کرنے والی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹیم کے مطابق برطانوی حکام کا موقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں ہے۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نےعدالت سے درخواست کی کہ وارنٹ گرفتاری کی عدم تعمیل پر سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا جائے۔ بعد ازاں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جج صاحب نے ساری شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے میں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ان کے خلاف تین اخبارات میں اشتہارات بھی چھپوائے جائیں۔‘‘

Pakistan Politik Bhutto Foto

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو دہشت گردانہ حملے میں قتل کیا گیا

سابق صدر پرویز مشرف نے چند روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے سال مارچ میں پاکستان واپس آ کر اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ پرویز مشرف کو پہلے بھی سندھ ہائی کورٹ اور ایبٹ آباد کی ایک ضلعی عدالت مختلف مقدمات میں اشتہاری قرار دے چکی ہیں تاہم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں انہیں اشتہاری قرار دیے جانے کو خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے جنرل مشرف کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ لیکن بقول ان کے یوں جنرل مشرف کے، ان کی وطن واپسی کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ملکی عدالتوں پر تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ دنیا کے کس ملک میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف احتجاج اور ہڑتالیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف اور ہم ایک ایسی عدالت پر اعتماد کر کے مقدمات کا سامنا شروع کر دیں جو ہمیں معلوم ہے کہ سیاست زدہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان میں پہلے عدالتوں کا وقار بحال کیا جائے اور پھر ہمیں کہیں کہ عدالتوں کا احترام بھی کیا جائے‘۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی مقتولہ چیئر پرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا، جب انہوں نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے اپنا خطاب ابھی ختم ہی کیا تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف متعدد بار اپنے خلاف بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم ایف آئی اے نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں موقف اختیار کر رکھا ہے کہ سابق صدر مشرف کو بھی اس مقدمے کی تفتیش میں شامل کیا جائے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس