1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بے لگام گھوڑا بی این ڈی‘ پر اصلاحات سے قابو پایا جا سکے گا؟

جرمن کابینہ نے ملکی خفیہ ایجنسی’ بی این ڈی‘ میں اصلاحات کے لیے ایک قانونی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ ناقدین کی نظر میں’ فیڈرل انفارمیشن سروس‘ بی این ڈی ایک بے لگام ادارہ ہے۔

برلن حکومت چاہتی ہے کہ ملکی خفیہ ایجنسی بی این ڈی یعنی’ فیڈرل انفارمیشن سروس‘ سے متعلق قوانین کو سخت بنایا جائے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ان خبروں کی تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے، جن کے مطابق یہ ادارہ اپنے ساتھیوں اور بین الاقوامی اداروں کی جاسوسی کرتا رہا ہے اور اس کام میں اس نے قومی سلامتی کے امریکی ادارے ’ این ایس اے‘ کو بھی تعاون فراہم کیا۔ اس دوران بی این ڈی نے پارلیمان کے نگران ادارے سے اجازت لینے کی زحمت بھی نہیں کی۔

میرکل انتظامیہ نے منگل کو نئے قوانین سے متعلق ایک مسودہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں یورپی یونین کے شہریوں کی جاسوسی کے سلسلے میں بی این ڈی کو نئی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایک بیرونی کمیٹی بھی اس ایجنسی کے معاملات پر نگاہ رکھے گی۔ یہ مسودہ اُس بل کی ایک نرم شکل ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی پہلے ایک مرتبہ تجویز کر چکی ہے۔ بی این ڈی ابھی بھی یورپی اداروں کی جاسوسی کرنے کی مجاز ہے اور وہ اس صورت میں اگر حاصل کی جانے والی معلومات کسی اندرونی یا بیرونی خطرے کو ٹالنے یا پھر وفاقی جمہوریہ جرمنی کے تحفظ کے لیے لازمی ہوں۔

ان اصلاحات میں ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی جائے گی، جس میں دو جج ہوں گے جبکہ دوکا تعلق استغاثہ سے ہو گا۔ ان افراد کو بی این ڈے کے اعداد و شمار کے علاوہ حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کی اجازت ہو گی۔ اس کے علاوہ مواصلات کے بین الاقوامی نظام کی جاسوسی کے لیے بی این ڈی کو اب چانسلر دفتر سے اجازت لینا ہو گی۔ اس سے قبل اس کام کے لیے بی این ڈی کو اپنے ہی چھوٹے عہدے کے کسی افسر سے رابطہ کرنا ہوتا تھا۔ جرمن پارلیمان میں موجود چار جماعتوں نے بی این ڈی کے نظام کو باقاعدہ بنانے پر اتفاق کیا ہے اور ان اصلاحات کی مکمل تائید بھی کی ہے۔ صرف ماحول دوست گرین پارٹی نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

امریکی خفیہ ادارے’سی آئی اے‘ کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے 2013 ء میں افشاء کی جانے والی معلومات کے مطابق جرمن خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ جن افراد کی جاسوسی کی گئی ان میں یورپی سفارت کار، سرکاری افسران اور اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی شامل تھیں۔ اس پر جب جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے احتجاج کیا تو معلوم ہوا کہ این ایس اے میرکل کے ٹیلیفون بھی سنتی رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا اصلاحاتی منصوبہ بے ثمر ثابت ہو گا۔