1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بے روزگاری کا خوف اور انسانی حقوق

جرمنی میں قانون ملازمین کو اپنے ادارے کے فیصلوں میں شرکت کا حق دیتا ہے۔ لیکن بے روزگاری کے اس دور میں حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ شہر ڈریسڈن کے ایک کال سینٹر میں کام کرنے والوں کو کچھ ایسی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔

default

بے آٹےراڈیبرگ ڈریسڈن کے ایک کال سینٹر میں کام کرتی ہیں۔ وہ بہت مصروف رہتی ہیں اسی وجہ سے اکثر ان کے پاس وقت کی کمی ہوتی ہے۔ ایک ٹیلی کمیونیکشن ادارے کے صارفین کے سوالات کے جوابات دینا ان کی بہت سے ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ مسلسل ٹیلی فون پر بات کرنا ہی کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور ایک کال کا دورانیہ سات منٹ تک کا ہو سکتا ہے۔ اپنی آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں انہیں تقریباً 70 کالیں وصول کرنا پڑتی ہیں، جو ایک انتہائی صبر آزما کام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فون کرنے والے بہت سے افراد سات منٹ سے لمبی بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں ماحول اکثر تلخ ہو جاتا ہے۔

Flash-Galerie Callcenter Innenansicht

کال سینٹر میں روزگار کے اوقات بہت سخت ہوتے ہیں

بے آٹے راڈیبرگ بتاتی ہیں کہ کبھی کبھار ایسے افراد بھی فون کرتے ہیں، جن کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف لڑنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن راڈیبرگ کو سب سے زیادہ پریشان ان کے اپنے ادارے کی بدانتظامی نے کیا ہوا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک دم شفٹ تبدیل کر دی جاتی ہے، ویک اینڈ پر بلا لیا جاتا ہے اور اسی طرح کے دیگر مسائل مسلسل تنگ کرتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک برس قبل انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس پریشان کن صورتحال کے خلاف کچھ کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے کمپنی میں ایک مجلس عاملہ بنانےکا فیصلہ کیا تھا، جس کی قانون بھی اجازت دیتا ہے۔ اس دوران بےآٹے راڈیبرگ اور اس کے ساتھیوں نے ہر طرح سے تسلی کرلی تھی کہ اس مجلس عاملہ کی بنیاد رکھنے سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’’ہمیں اس بات کا علم تھا کہ اس سے پہلے بھی مجلس عاملہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن جو اشخاص ایسا کرنا چاہتے تھے، ان میں سےکوئی بھی آج کل کمپنی میں موجود نہیں ہے‘‘۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے اس منصوبے کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Callcenter Reportage

مجلس عاملہ قائم کرنے کا ارادہ کمپنی کو پسند نہیں آیا، بے آٹے راڈیبرگ

بے آٹے راڈیبرگ کہتی ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے ہی کمپنی اپنے ملازمین کو نوکری سے نکال دیتی ہے۔ ڈریسڈن میں بے روزگاری کی شرح 12فیصد ہے اور ایک نئی جاب تلاش کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ بی آٹے نے بتایاکہ وہ ایک مرتبہ طویل عرصے تک بے روز گار رہ چکی ہیں اور انہیں دوبارہ بے روزگار ہونے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس سارے معاملے میں اپنی شناخت کو خفیہ رکھا ہوا تھا۔ بے شک اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں آگے بھی اسی بد انتظامی اور افراتفری کے ماحول میں کام کرنا ہو گا اور انہیں اس بات کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا کہ کسی بھی چھٹی والے دن انہیں اچانک ٹیلیفون کر کے کام پر بلایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: ماتھیاس بولنگر

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت: کشور مصطفی