1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’بے رحمانہ‘ یورپی پالیسیاں مہاجرین کی زندگیاں خطرے میں، ایمنسٹی

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی ’بے رحمانہ‘ پالیسیاں بحیرہء روم کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کا لیبیا پر بے انتہا انحصار مہاجرین کے لیے ’انتہائی خطرناک‘ اثرات کا حامل ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ پالیسیاں تارکین وطن کو ایک طرح سے مجبور کر رہی ہیں کہ وہ اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر یا تو بحیرہء روم کا سفر اختیار کریں یا پھر لیبیا میں شدید نوعیت کے تشدد کا سامنا کریں۔

جمعرات کے روز یورپی یونین کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ لیبیا کے کوسٹ گارڈز کے لیے اپنی مدد میں اضافہ کرے گی، تاکہ لیبیا کے حکام تارکین وطن کو یورپی یونین کی جانب جانے سے روکیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بحیرہء روم میں ریسکیو آپریشنز میں اضافے کی بجائے لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی مدد میں اضافے سے یہ بات واضح ہے کہ یورپی یونین تارکین وطن کی زندگیوں کی پروا کرنے کو تیار نہیں۔

Libyen Migranten Flüchtlinge Boot (picture-alliance/dpa/E.Morenatti)

’’لیبیا میں سیاہ فام افراد کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا‘‘

برسلزکی کوشش ہے کہ شورش کے شکار ملک لیبیا میں کوسٹ گارڈز اور بحریہ کو سرمایہ، آلات اور تربیت فراہم کی جائے، تاکہ وہ لیبیا سے یورپ کے لیے نکلنے والے تارکین وطن کو اپنی سرحدی حدود ہی میں روک کر واپس لے جائیں۔ تاہم لیبیا میں تارکین وطن پر تشدد اور ان سے کیا جانے والا غیرانسانی سلوک انسانی حقوق کی تنظمیوں کی جانب سے شدید تنقید کا سبب ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ’آ پرفیکٹ سٹروم‘ یا ’ایک مکمل طوفان‘ کے نام سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی یہ پالیسی لیبیا میں موجود تارکین وطن کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ فوراﹰ یورپی یونین تک پہنچنے کی کوشش کریں، کیوں کہ دوسری صورت میں لیبیا کے حکام کے ہاتھوں پکڑے جانے پر انہیں شدید نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’یورپی یونین کی یہ بے رحمانہ پالیسی نہ صرف لیبیا سے اس خوف ناک سفر کو اختیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرات کا شکار کرتے ہوئے ان تارکین وطن کو یہ باور بھی کروا رہی ہے کہ اگر وہ پکڑے گئے، تو انہیں لیبیا کے حکام کے ہاتھوں شدید اذیت کا سامنا کرنا ہو گا۔‘‘