1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بے جا چیکنگ پر پاکستانی فوجی وفد نے دورہ امریکہ منسوخ کردیا

امریکی ہوئی اڈوں پر عام مسافروں کی بےجا چیکنگ کے واقعات تو ایک عام سی بات ہیں۔اسی طزح کا ایک تازہ واقعہ پاکستانی فوج کے ایک وفد کے ساتھ بھی پیش آیا، جس کے بعد وفد نے اپنا امریکی دورہ منسوخ کر دیا۔

default

پاکستان فوج کے ذرائع نے بتایا کہ آرمی کا ایک نو رکنی وفد امریکی حکام سے فوجی معاملات پر مذاکرات کرنے کے لئے ٹامپا جارہا تھا۔ تاہم واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر وفد کو جہاز سے اتار کر بہت ہی سخت انداز میں چیکنگ کی گئی۔ بی بی سی کے مطابق یہ تمام معاملہ اس وقت شروع ہوا جب یونائیٹڈ ایئر لائن کی پرواز کے دوران ایک مسافر نے شکایت کی کہ طیارے میں بہت زیادہ غیر ملکی سوار ہیں اور وہ اردو میں بات کر رہے ہیں۔ اس شخص نے انتظامیہ سے ان افراد کو پرواز سے اتارنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے فوراً بعد پاکستانی فوج کے افسران کو، جن میں دو جنرل بھی شامل تھے، پوچھ گچھ کے لئے طیارے سے اتار لیا گیا۔

Flughafen Sicherheitskontrolle

پاکستانی حکام نے بلاجواز چیکنگ پر احتجاج کرتے ہوئے دورہ منسوخ کرنے کا حکم دیا

پاکستانی فوج کے مطابق یہ افراد امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کر رہے تھے اور انہیں امریکی ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے چیک کیا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع نے پوچھ گچھ کے بعد ان افراد کو سفر جاری رکھنے کی اجازت تو دے دی تاہم پاکستان میں فوجی حکام نے بلاجواز چیکنگ پر برہمی کا اظہار اور احتجاج کرتے ہوئے افسران کو دورہ منسوخ کرنے اور وطن واپس آنے کا حکم دیا۔

اسی طرح کا ایک واقعہ رواں سال مارچ کے مہینے میں بھی پیش آیا تھا، جب امریکی محکمہ خارجہ کی دعوت پر پاکستانی ارکان اسمبلی کے ایک گروپ کو نیو اورلینز کے راستے میں واشنگٹن کے ہوائی اڈے پرسخت چیکنگ سے گزرنا پڑا تھا۔ ان پاکستانی ارکان اسمبلی نے بھی اپنا دورہ منسوخ کرکے وطن واپسی کی راہ لی تھی۔

Verstärkte Sicherheitskontrollen an amerikanischen Flughäfen

امریکی ہوائی اڈوں پر2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے

گوکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک اہم ساتھی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاملات پر بے اعتمادی کی فضا بھی قائم ہے۔ امریکی حکام کا اس واقعے پر کہنا ہے کہ یہ ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور یہ کہ وہ اس پر پاکستانی وفد سے معذرت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی انتظامیہ نے بھی اپنے رویے پر معافی طلب کی ہے۔ امریکی ہوائی اڈوں پر2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے اور مشرق وسطی یا مسلم ممالک سے امریکہ جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس