1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بے بنیاد الزامات‘ تکلیف دہ ہیں: حسنی مبارک

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے مظاہرین کے قتل اور سرکاری رقوم کی خرد برد کے الزام میں سابق صدر حسنی مبارک کی عدالت میں طلبی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ تاہم مبارک نے کہا ہے کہ اُن کے خلاف عائد کردہ الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

default

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک

اتوار کو جنرل پراسیکیوٹر عبدالمجید محمود نے ایک بیان میں کہا کہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مبارک کے بیٹوں جمال اور علاء کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا ہے اور مبارک کی جانب سے خاندان کے اور خود اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی صحت سے انکار کا تفتیش پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اِس سے پہلے مبارک نے گیارہ فروری کو اپنی معزولی کے بعد سے دو ماہ کی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کو بھیجی جانے والی معلومات یہ ثابت کریں گی کہ اُن کے پاس ملک سے باہر کوئی مالی اثاثے یا جائیداد نہیں ہے۔ مبارک کے مطابق اُن کے بیٹوں علاء اور جمال کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اُنہوں نے ناجائز طریقے سے کوئی دولت جمع نہیں کی۔

العربیہ ٹیلی وژن چینل سے نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شُدہ آڈیو بیان میں 82 سالہ مبارک نے کہا: ’’مَیں اپنے تمام تر قانونی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اور اپنے خاندان کی ساکھ کا ملک کے اندر اور باہر دفاع کروں گا۔‘‘ مبارک کے مطابق اُنہیں اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات سے دکھ پہنچا ہے اور اُن کا مصر کے ایک ہی بینک میں اکاؤنٹ ہے، جس کی تفصیلات وہ پہلے ہی بتا چکے ہیں۔

وزیر انصاف محمود الجندی نے کہا کہ مبارک اور اُن کا خاندان عدلیہ کو ایک ایسا مختار نامہ دیتے ہوئے تفتیش میں مدد دے سکتا ہے، جس کے ذریعے اُن کی بیرونِ ملک دولت کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہو۔

Ägypten Mubarak Familie

حسنی مبارک اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ

واضح رہے کہ کئی ممالک نے مبارک کے اہلِ خانہ اور چند ایک قریبی ساتھیوں کے اثاثے اُس وقت منجمد کر دیے تھے، جب مقتدر سیاسی طبقے کی مالی بدعنوانیوں کے خلاف چلنے والی ایک 18 روزہ عوامی مہم کے نتیجے میں اُنہیں اپنا عہدہء صدارت چھوڑنا پڑا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی کچھ رپورٹوں میں مبارک اور اُن کے خاندان کی دولت کا اندازہ اربوں ڈالر لگایا گیا تھا۔

عہدہء صدارت چھوڑنے کے بعد سے حسنی مبارک اور اُن کے اہلِ خانہ بحیرہء احمر کے تعطیلاتی ساحلی مقام شرم الشیخ میں مقیم ہیں اور مصری حکام اِن خبروں اور افواہوں کی تردید کر رہے ہیں کہ مبارک سخت علیل ہیں۔ اِسی دوران مبارک کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ جمعے کو بھی قاہرہ کے تحریر چوک میں ہزارہا افراد نے مبارک کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس