1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بی جے پی نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے

بھارت کی پانچ ریاستوں میں کرائے جانے والے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بی جے پی کے حامی ملک بھر میں جیت کی خوشیاں منا رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست، اتر پردیش کے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ بھارت کی اس شمالی ریاست کی آبادی 220 ملین ہے۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ کے مطابق ان کی جماعت کو پچھتر فیصد ووٹ ملے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ ان کے بقول یہ نتیجہ بھارتی سیاست کو ایک نیا رخ دے گا،’’عوام کو بی جے پی اور نریندر مودی پر بھروسہ کرنے کا صلہ ضرور ملے گا۔‘‘ ملکی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق اتر پردیش کی 403 نشستوں میں سے بی جے پی کو 311 پر کامیابی ملی ہے۔

اتر پردیش کے ان ریاستی انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا تھا۔ مودی 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر وزارت عظمٰی کے امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اتر پردیش میں شکست تسیلم کر لی ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے مودی کو اس فتح پر مبارکباد دی ہے۔

اسی طرح میانمار کی سرحد پر واقع شمال مشرقی ریاست منی پور میں کانگریس کو اٹھائیس اور بی جے پی کو اکیس نشستیں ملی ہیں۔ اس سے قبل ہوئے انتخابات میں بی جے پی ریاست کی ساٹھ رکنی اسمبلی کی ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ تاہم یہ ابھی غیر واضح ہے کہ منی پور اور گوا میں کونسی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے کیونکہ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس کو ملنے والی نشستوں کی تعداد بی جے پی سے زیادہ ہے تاہم یہ جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائی ہے۔کانگریس پنجاب کے انتخابات میں کامیاب ہوئی ہے۔

اترا کھنڈ ریاست کی ستر میں سے 57 نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اس ریاست میں کانگریس کو صرف گیارہ  سیٹیں ملی ہیں۔ یہ انتخابات اتر پردیش اور چار دیگر یونین ریاستوں میں کرائے گئے تھے اور کئی مراحل میں یہ انتخابی عمل قریب ایک مہینے میں پورا ہوا تھا۔ اس نتیجے کے بعد راجیہ سبھا یا ایوان بالا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی اپنے اصلاحاتی منصوبوں پر مکمل طور پر عمل نہیں کر پا رہی تھی۔