1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

عنوانات

بی ایم ڈبلیو 100 سال کی ہو گئی

جرمنی کی لگژری کاریں تیار کرنے والی کمپنی بی ایم ڈبلیو آج پیر سات مارچ کو اپنے قیام کے سو سال منا رہی ہے۔ معروف ترین کار ساز اداروں میں شمار ہونے والی بی ایم ڈبلیو کمپنی نے 100 سال میں تاہم بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔

جرمن شہر میونخ میں قائم بی ایم ڈبلیو کے ہیڈکوارٹرز میں اس دن کے موقع پر خصوصی تقریب منتعقد کی گئی ہے۔ میونخ میں اس کمپنی کے ہیڈکوارٹر کے علاوہ وہاں ایک بڑا پلانٹ اور میوزیم بھی موجود ہے۔ اس جنوبی شہر میں بی ایم ڈبلیو سب سے بڑی پرائیویٹ ملازمت فراہم کرنے والی کمپنی ہے اور یہاں اس کے ملازمین کی تعداد 41,000 ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران شروع ہونے والی یہ کمپنی اب ایک بین الاقوامی کمپنی بن چکی ہے۔ اس وقت BMW کے پلانٹس دنیا کے 14 ممالک میں موجود ہیں جبکہ اس کے ملازمین کی مجموعی تعداد 116,000 سے زائد ہے۔ بی ایم ڈبلیو کی سالانہ فروخت 80 بلین یورو ہے جو 88 بلین امریکی ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔ آج بی ایم ڈبلیو کاروں کے علاوہ موٹر سائیکل بھی بناتی ہے اور اس کمپنی کے برانڈز میں رولس رائس اور مِنی بھی شامل ہیں۔

1923ء میں بی ایم ڈبلیو نے اپنا پہلا موٹر سائیکل بنایا تاہم اس نے کار سازی کی ابتدا 1928ء میں کی

1923ء میں بی ایم ڈبلیو نے اپنا پہلا موٹر سائیکل بنایا تاہم اس نے کار سازی کی ابتدا 1928ء میں کی

اس وقت کارساز صنعت کے بڑے ادارے بی ایم ڈبلیو نے 17 مارچ 1916ء میں جرمنی کی ’باویرین ایئرکرافٹ فیکٹری‘ میں جہازوں کے انجن بنانے سے آغاز کیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب شکست خوردہ جرمنی پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ جہاز تیار نہیں کر سکتا تو اس کمپنی نے 1922ء میں اپنا نام تبدیل کر کے Bayerische Motoren Werke رکھ لیا جس کا مطلب ’باویرین انجن فیکٹری‘ بنتا ہے۔

بی ایم ڈبلیو نے پروپیلر کی شکل کا لوگو اپنایا جس کا مقصد ایرو اسپیس کی صنعت سے اپنے آغاز کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ کمپنی کی تاریخ مرتب کرنے والے بی ایم ڈبلیو کے ہی تاریخ دان مانفرڈ گرونرٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’بی ایم ڈبلیو اس وقت جس حوالے سے شہرت رکھتی ہے، یعنی کار سازی یہ اس کی ترجیحات میں سب سے آخر میں شامل کی گئی۔‘‘

1923ء میں بی ایم ڈبلیو نے اپنا پہلا موٹر سائیکل بنایا تاہم اس نے کار سازی کی ابتدا 1928ء میں کی۔ 1930ء کی دہائی میں اس نے اپنے ڈیزائن متعارف کرائے جن میں 326 لیموزین اور 328 روڈسٹر وغیرہ شامل تھے۔

جرمنی میں جب نازی طاقت میں آ گئے تو اس کمپنی نے ایک بار پھر جہازوں کے انجن تیار کرنا شروع کر دیے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب جرمنی تباہ و برباد ہو چکا تھا تو بی ایم ڈبلیو نے گھریلو استعمال کی چیزیں تیار کر کے گزارا کیا۔ 1948ء میں ایک بار پھر موٹرسائیکل سازی اور 1952ء میں کار سازی کی ابتدا کی گئی۔

بی ایم ڈبلیو موٹر سائیکل بھی تیار کرتی ہے

بی ایم ڈبلیو موٹر سائیکل بھی تیار کرتی ہے

تاریخ دان گرونرٹ کے مطابق ’’1950ء کی دہائی میں کمپنی شدید مالی مشکلات کا شکار رہی۔۔۔ بی ایم ڈبلیو نے جرمنی کے بعد از جنگ معاشی معجزے میں شرکت نہیں کی۔‘‘

1959ء میں یہ گروپ اپنی حریف کمپنی ڈائملر بینز کے ہاتھ فروخت ہونے کے قریب ہی تھا جب اس کمپنی کے حصہ داروں کے ایک گروپ نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہی میں سے ایک ہیربرٹ کوانڈٹ Herbert Quandt نے جو ایک معروف صنعت کار کے بیٹے تھے، بی ایم ڈبلیو کو بچانے کے لیے آگے بڑھے اور اس میں بڑی سرمایہ کاری کی۔ گرونرٹ کے بقول۔، ’’ان کی مدد کے بغیر بی ایم ڈبلیو آج محض ڈائملر کی ایک فیکٹری ہوتی۔‘‘ خیال رہے کہ ڈائملر بینز ہی دراصل مرسیڈیز کاریں تیار کرتی ہے۔ اس کے بعد بی ایم ڈبلیو مسلسل کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی چلی گئی اور آج دنیا بھر میں اپنی لگژری کاریں بنانے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔