1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بیک وقت تین طلاقیں: بھارتی سپریم کورٹ میں سماعت شروع

بھارتی سپریم کورٹ نے کسی مسلمان مرد کی طرف سے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کے عمل سے متعلق دائر کردہ کئی درخواستوں کی سماعت شروع کر دی ہے۔ بھارت میں بھی مسلم شوہر اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے کر شادی ختم کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ نئی دہلی میں سپریم کورٹ نے ایسی متعدد درخواستوں پر عدالتی سماعت شروع کر دی ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ مسلم مردوں کی طرف سے اپنی بیویوں کو بیک وقت تین طلاقیں دینے کے عمل کی قانوناﹰ ممانعت کر دی جائے۔

دنیا بھر کی کئی مسلم ریاستوں کی طرح سیکولر ملک بھارت کا شمار بھی ایسے ممالک میں ہوتا ہے، جہاں مسلمانوں میں طلاق دیے جانے کے اس متنازعہ طریقے پر عمل کیا جاتا ہے۔ تاہم مسلم خواتین اور حقوق نسواں کے لیے سرگرم کئی اداروں نے اس روایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

بھارتی مسلم خواتین ’بہ یک وقت تین طلاقوں‘ کےخلاف میدان میں

نئی شروعات، سیکس ٹیپ اور طلاق، یہ سب کیا ہے؟

مسلم خواتین کو بیک وقت تین طلاقیں دینا ناانصافی ہے، مودی

بتایا گیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا ایک پانچ رکنی بینچ ان ملتی جلتی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ اس بینچ میں تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے ججوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اس کی سربراہی چیف جسٹس آف انڈیا جے ایس کھہیر خود کر رہے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بھارت میں حالیہ عرصے کے دوران اس طرح طلاق دیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اب تو ایسے کئی کیس بھی سامنے آئے ہیں، جن میں مردوں نے اپنی بیویوں کو ٹیکسٹ میسج اور ای میل کے ذریعے بھی طلاق دے دی۔

بھارتی ٹیلی وژن چینل این ڈی ٹی وی نے سپریم کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کیسوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سینئر جج یہ جانچنے کی کوشش کریں گے کہ آیا بیک وقت تین طلاقیں دینے کا عمل دینی لحاظ سے مسلم مردوں کا بنیادی حق ہے یا نہیں۔ اسی طرح حتمی فیصلے سے قبل مذہبی اعتبار سے بھی اس عمل کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔

سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والی کئی خواتین میں ایسی بھی ہیں، جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہروں نے انہیں ٹیلی فون، وٹس ایپ یا فیس بک پیغامات کے ذریعے بھی طلاقیں دی ہیں۔ بھارت میں کئی مسلم مذہبی گروپوں کا اصرار ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق مرد اپنی اہلیہ کو بیک وقت تین طلاقیں دینے کا بنیادی حق رکھتا ہے، اس لیے ملکی سپریم کورٹ اس مذہبی عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

بھارت میں مسلمان کمیونٹی پر ’مسلم پرسنل لاء‘ کا اطلاق ہوتا ہے، جو سن 1937 میں باقاعدہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون کم و بیش شرعی قوانین کی روشنی میں بنایا گیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں برسراقتدار ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کی طرف سے محض چند لمحوں میں طلاق دینے کے اس عمل کے خلاف ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کی طرح وزیر اعظم مودی کی سیاسی جماعت کا بھی کہنا ہے کہ یہ عمل خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے برابر ہے۔

DW.COM